سرکاری ہاسپٹل کی بڑی لاپرواہی، کوڑے میں پڑی انجکشن کی سوئیوں سے 5 سالہ بچہ زخمی (ویڈیو)
کھیلتے ہوئے بچے کی نظر استعمال شدہ سوئیوں سے بھرے ایک کھلے ڈبے پر پڑی جو اسپتال کے احاطے میں غیر محفوظ طریقہ سے رکھا گیا تھا۔ بچے نے انجانے میں اس ڈبے میں ہاتھ ڈال دیا، جس کے نتیجے میں اسے گہرا زخم آیا اور خون بہنے لگا۔
آگرہ: اتر پردیش کے شہر آگرہ کے ایک سرکاری ضلع اسپتال سے طبی لاپرواہی کا ایک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں اسپتال کی حدود میں کھلے عام پڑے ہوئے بائیو میڈیکل ویسٹ (استعمال شدہ سوئیوں) نے ایک 5 سالہ معصوم بچے کو لہولہان کر دیا۔ اس واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے مطابق بچہ اپنے والدین کے ساتھ معمول کے چیک اپ کے لیے اسپتال آیا تھا۔
کھیلتے ہوئے بچے کی نظر استعمال شدہ سوئیوں سے بھرے ایک کھلے ڈبے پر پڑی جو اسپتال کے احاطے میں غیر محفوظ طریقہ سے رکھا گیا تھا۔ بچے نے انجانے میں اس ڈبے میں ہاتھ ڈال دیا، جس کے نتیجے میں اسے گہرا زخم آیا اور خون بہنے لگا۔
خون بہنے اور انفیکشن کے خطرے کے پیشِ نظر افرادخاندان نے فوری طور پر بچہ کو علاج کے لیے ایک بڑے طبی مرکز (Higher Centre) منتقل کر دیا۔ ڈاکٹرس فی الحال بچے کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان استعمال شدہ سوئیوں سے اسے کوئی خطرناک بیماری یا انفیکشن تو نہیں ہوا۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ واقعہ آگرہ کے نو منتخب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے اس دورہ کے چند ہی دن بعد پیش آیا ہے جس میں انہوں نے اسپتال کا معائنہ کیا تھا اور صفائی ستھرائی سمیت سہولیات کو بہتر بنانے کی سخت ہدایات دی تھیں۔
سوشل میڈیا پر واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
بائیو میڈیکل ویسٹ کو ٹھکانے لگانے کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی پر اسپتال کے عملے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مجرمانہ غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔