اسلامی ادارے، اصلاح کے مراکز بنیں مذہبی شناخت اور ثقافت کا تحفظ ضروری: میرواعظ
کشمیر کے میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کے دن کہا کہ مساجد، خانقاہوں اور امام باڑوں کو سماجی اصلاح کے عمل میں شامل کرنا چاہئے۔ انہوں نے سری نگر میں ایک مذہبی کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ہماری مسجدیں، خانقاہیں اور امام باڑے مثبت تبدیلی اور معاشرہ کے اندر اصلاح کے مراکز بنیں۔
سری نگر (پی ٹی آئی) کشمیر کے میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کے دن کہا کہ مساجد، خانقاہوں اور امام باڑوں کو سماجی اصلاح کے عمل میں شامل کرنا چاہئے۔ انہوں نے سری نگر میں ایک مذہبی کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ہماری مسجدیں، خانقاہیں اور امام باڑے مثبت تبدیلی اور معاشرہ کے اندر اصلاح کے مراکز بنیں۔
انہیں نوجوان نسل کی رہنمائی، شعور بیداری، اخلاقی اقدار کو تقویت اور لوگوں کے مسائل حل کرنے میں مدد کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقامات صرف عبادت گاہیں نہیں ہیں بلکہ تاریخی طور پر اصلاح، رہنمائی اور سماجی تبدیلی کے فعال مراکز رہے ہیں۔
ساری اسلامی تاریخ میں مذہبی اداروں نے اخلاقی شعور بیداری، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مستحکم کرنے اور سماج کو درپیش معاشرتی اور اخلاقی چیلنجز سے نمٹنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ موجودہ دور میں جبکہ معاشرہ کو بڑھتے سیاسی، اخلاقی اور ثقافتی چیلنجز کا سامنا ہے عبادت گاہوں کے حقیقی رول کے احیاء کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اخلاقی انحطاط، گھریلو جھگڑے، بڑھتی مادیت پرستی اور کمزور ہوتے خاندانی و معاشرتی بندھن جیسے مسائل اجتماعی احتساب اور مسلسل سماجی تال میل چاہتے ہیں۔ کشمیر کے مذہبی اور روحانی اداروں نے تاریخی لحاظ سے بقائے باہم، رواداری، روحانیت اور سماجی ذمہ داری کے اقدار کی آبیاری کی ہے۔
ان روایتوں کو باقی رکھنا اور انہیں مستحکم کرنا چاہئے۔ میرواعظ نے کہا کہ ہمیں اپنی مذہبی شناخت، ثقافت، زبان، اخلاقی اقدار اور روحانی ورثہ کے تحفظ کی کوشش کرنی چاہئے۔ پیغمبر اسلامؐ کی حیات اور تعلیمات کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ سیرت النبیؐ صرف جلسوں اور خطابات کیلئے نہیں ہے۔
نبوی ؐتعلیمات انفرادی اور اجتماعی معاشرتی رویوں میں جھلکنی چاہئیں۔ رسول اکرمؐ نے انصاف، ہمدردی، دیانتداری، جواب دہی اور انسانی حکومت پر مبنی معاشرہ قائم کیا تھا۔