کرناٹک

کرناٹک میں ’لو جہاد‘ کا کیس‘ ملزم زیرحراست

کرناٹک میں ایک مسلمان کو جس کے ساتھ ایک ہندو عورت (4 بچوں کی ماں) مبینہ طورپر بھاگ گئی تھی‘ پولیس حراست میں لے لیا گیا۔

بنگلورو: کرناٹک میں ایک مسلمان کو جس کے ساتھ ایک ہندو عورت (4 بچوں کی ماں) مبینہ طورپر بھاگ گئی تھی‘ پولیس حراست میں لے لیا گیا۔ ایک پولیس عہدیدار نے جمعہ کے دن یہ بات بتائی۔

متعلقہ خبریں
پارلیمنٹ سیکوریٹی چُوک کیس، للت جھا کی تحویل میں توسیع
کمیشن نے چامراج نگر سیٹ پر دیا دوبارہ پولنگ کا حکم
لوجہاد کے الزام میں ایک گرفتار
لاپتا پڑوسی خاتون کی تلاش میں شامل مسلم نوجوان پر حملہ
کرناٹک قانون ساز کونسل میں متنازعہ مندر ٹیکس بل کو شکست

پیشہ سے سنار گدگ کے رہنے والے پرکاش گجراتی نے الزام عائد کیا کہ اس کی بیوی ہیماوتی اسے چھوڑکر چلی گئی اور اس نے ساونور کے رہنے والے مقبول سے شادی کرلی۔ پرکاش نے اس معاملہ کو لو جہاد قراردیا۔

اس نے کہا کہ اس نے جب اپنی بیوی سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی تو مقبول کے گھر والوں نے اسے روکا اور دھمکایا۔ سنار نے کہا کہ اس کی بیوی مسلمان ہوگئی ہے اور وہ اپنے ساتھ اس کی ایک بیٹی کو بھی لے گئی ہے۔ پولیس‘ ملزم کے ساتھ بھاگ جانے والی عورت اور اس کی لڑکی سے پوچھ تاچھ کررہی ہے۔

گدگ کے سپرنٹنڈنٹ پولیس باباصاحبہ نیماگوڑا نے کہا کہ ملزم‘ عورت اور اس کی بیٹی کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ معاملہ کی تحقیقات جاری ہیں۔ پرکاش سنار کے خاندان سے مقبول کا تعارف گوا میں ہوا تھا۔ مقبول کا تعلق کرناٹک سے ہونے کی وجہ سے پرکاش سنار کی اس سے اچھی دوستی ہوگئی۔

سنار نے مقبول کے کمرہ کے قریب کرایہ کا مکان لے لیا۔ کچھ عرصہ بعد مقبول کی دوستی سنار کی بیوی سے ہوئی اور وہ اسے درگاہ اجمیر لے گیا۔ اس نے سنار کی بیوی کو اسلام قبول کرایا اور اس سے شادی کرلی۔ پرکاش گجراتی کا کہنا ہے کہ اس نے مقبول سے التجا کی کہ وہ اس کا گھر نہ توڑے اور اس کی بیوی کو اس کے پاس آنے دے۔

وہ گدگ واپس آگیا اور اپنی فیملی کے ساتھ رہنے لگا تاہم اس کی بیوی غائب ہوگئی اور پھر مقبول کے ساتھ دیکھی گئی۔ پرکاش گجراتی کا دعویٰ ہے کہ اس نے پولیس اور مہیلا سنگھٹنوں سے ربط پیدا کیا لیکن اسے کوئی راحت نہیں ملی۔

اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے قلب پر حملہ ہوا ہے اور اس کے 2 بیٹے بیمار ہیں۔ کنڑا نیوز چیانل وِستارا میں حال میں خبر آنے کے بعد یہ واقعہ منظرعام پر آیا۔ سری رام سینا نے خبردار کیا ہے کہ شادی شدہ عورت کو پھر سے اس کے شوہر اور بچوں سے ملادیا جائے ورنہ وہ بڑے پیمانہ پر احتجاج کرے گی۔

a3w
a3w