قومی

مودی ایوان میں بیان دیں،نہ کہ من کی بات کریں: کانگریس

کانگریس نے آج کہا کہ جب پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہے تو وزیر اعظم کو چاہئے کہ وہ ایوان میں پیپر لیک مسئلہ پر بیان دیں نہ کہ ”یکطرفہ من کی بات“ کے ذریعہ اس موضوع پر کچھ کہیں۔

نئی دہلی (پی ٹی آئی) کانگریس نے آج کہا کہ جب پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہے تو وزیر اعظم کو چاہئے کہ وہ ایوان میں پیپر لیک مسئلہ پر بیان دیں نہ کہ ”یکطرفہ من کی بات“ کے ذریعہ اس موضوع پر کچھ کہیں۔

اپوزیشن پارٹی نے کہا کہ ”مایوس الجھن کا شکار دکھائی دینے والے“ وزیراعظم آخر کار ایک ویڈیو پیام کے ذریعہ پیپر لیک مسئلہ پر اپنی خاموشی توڑے اور دعویٰ کیا کہ طلباء کے احتجاجوں یا ان پر کی گئی بربریت کا ذکر کرنے میں ان کی ناکامی، جوابدہی کیلئے پابند نہ ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔

نصف شب کے کچھ دیر بعد جاری کردہ ویڈیو پیام میں دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مسئلہ سے احتراز کرنے کیلئے کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے مودی پر تنقید کی۔ آج صبح کی اولین ساعتوں کے دوران ایکس پر جاری کردہ پوسٹ میں راہول گاندھی نے کہا کہ وزیراعظم کو نہیں چاہئے تھا کہ وہ طلباء کی ذہنی صلاحیتوں کی توہین کریں۔ قائد اپوزیشن نے کہا کہ ”مودی جی ہمارے طلباء دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں۔

نصف شب کو جاری کردہ جذبات سے عاری ویڈیو سے ان کی توہین نہ کریں۔ (1پردھان کو برطرف کریں۔ (2طلباء کو زدوکوب کرنے والوں کو سزا دیں۔ (3 معذرت خواہی کریں۔ جمعرات کی رات جاری کردہ ویڈیو میں مودی نے اعلان کیا کہ پیپر لیک کے خلاف سخت کارروائی کرنے گنجائش فراہم کرنے آئندہ ہفتہ پارلیمنٹ میں بل پیش کی جائے گی۔

انہوں نے ویڈیو میں یہ بھی کہا کہ جمعہ کے دن کابینی اجلاس میں بل کے خدوخال پر بات چیت ہوگی اور مجوزہ قانون کو قطعیت دی جائے گی۔ وزیراعظم کے ریمارکس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کھرگے نے کہا کہ آج پارلیمنٹ آنے سے قبل دھرمیندر پردھان کو برطرف کریں۔ پہلے طلباء سے معذرت خواہی کریں اور طلباء کی آواز دبانے لاٹھیاں استعمال کرنے اور پیلیٹ بندوقوں کا استعمال کرنے کا حکم جاری کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

تب ہم تعلیمی نظام پر تفصیلی بات چیت کرنے تیار ہوں گے۔ صدر کانگریس نے ہندی میں ایکس پر تحریر کردہ پیام میں کہا کہ جب پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہے تو وزیراعظم کو چاہئے کہ اجلاس میں بیان دیں۔ انہیں چاہئے کہ پارلیمنٹ کے باہر ”من کی بات“ میں یکطرفہ بیان جاری کریں۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے کہا کہ وزیراعظم اشک شوئی کی جو بھی تجویز پیش کرتے ہیں مسئلہ کے حل کا پہلا قدم واضح ہے کہ منتری پردھان کو برطرف کریں۔

طلباء کی پٹائی کرنے والوں کو سزا دیں اور معذرت خواہی کریں۔ انہوں نے کہا کہ یاد کریں کہ مودی حکومت نے بہت پہلے ہی نیٹ۔یوجی امتحان کے پیپر لیک ہونے کی ترید کی تھی۔ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منتری پردھان نے اپنی پریس کانفرنس میں ”لیک“ لفظ استعمال کرنے سے دانستہ طور پر انکار کیا اور وزارت تعلیم نے پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹی برائے تعلیم میں پیپر لیک ہونے کاانکار کیا تھا۔

رمیش نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ سے عوامی غصہ ظاہر ہونے پر ہی وزیراعظم نے سچائی کو تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے طلباء کو مودی پر اعتماد نہیں رہا۔ طلباء کے مفاد پر حکومت مسلسل اپنے سیاسی چالوں کو ترجیح دیتی رہی ہے۔

رمیش نے دعویٰ کیا کہ ہزاری باغ میں نیٹ۔یوجی 2024ء امتحانات میں وسیع پیمانے پر بدعنوانیوں کے ثبوت دانستہ طور پر دفن کردئے گئے لیکن حامیوں کو کیفرکردار کو پہنچانے میں حکومت ناکام رہی۔ لیک کیلئے سنجیو مکھیاکو سرغنہ قرار دینے کے بعد اب دعویٰ کیا جارہا ہے کہ وہ بے قصور ہے۔ رمیش نے کہا کہ سی بی آئی نے کیس بند کرنے اپنی رپورٹ میں کہا کہ یو جی سی۔ نیٹ امتحان 2024ء جو منسوخ کیا گیا میں پیپر لیک نہیں ہوا تھا لیکن اس کے اسباب فراہم کرنے میں حکومت ناکام رہی۔