سونم وانگ چک کی ہڑتال ختم ہونے کے باوجود احتجاج ختم نہ ہوگا: سنجے راوت
شیوسینا (یوبی ٹی) لیڈر و رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے آج جہدکار سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال ختم کرانے کے لئے مرکزی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کیلئے تحریک کا اصل مطالبہ حل کئے بغیر نصف شب میں زبردستی ہڑتال ختم کرادی گئی۔
نئی دہلی (آئی اے این ایس) شیوسینا (یوبی ٹی) لیڈر و رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے آج جہدکار سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال ختم کرانے کے لئے مرکزی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کیلئے تحریک کا اصل مطالبہ حل کئے بغیر نصف شب میں زبردستی ہڑتال ختم کرادی گئی۔
یہاں اخباری نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے راوت نے زور دے کر کہا کہ سرکاری عہدیداروں کی موجودگی کے بجائے اگر وانگ چک کی بھوک ہڑتال جنتر منتر پر ان کے حامیوں کے بیچ ختم کرائی جاتی تو یہ زیادہ اطمینان بخش ہوتا۔ اپوزیشن لیڈروں اور احتجاج کے منتظمین کے بغیر وہاں مرکزی وزرأ کی موجودگی پر راوت نے سوال اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت جس کے خلاف بھوک ہڑتال کی جارہی تھی اس کے دو وزرا وہاں پہنچے اور وانگچک کی بھوک ہڑتال ختم کرائی۔ مخالف ڈکٹیٹر شپ پارٹیوں اور تنظیموں کی تائید سے شروع کیا گیا احتجاج کا کوئی نمائندہ وہاں موجود رہنا چاہئے تھا۔ کم از کم ابھیجیت دپکے یا اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کی وہاں موجودگی درکار تھی۔
26 روزہ بھوک ہڑتال کے اصل مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے راوت نے حکومت سے یہ واضح کرنے کا مطالبہ کیا کہ کونسی شرائط حقیقتاً قبول کی گئی ہیں۔ ہنوز اس تعلق سے مکمل الجھن جاری ہے کہ کن مطالبات کی تکمیل کی گئی ہے۔ بنیادی مطالبہ تو مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ تھا۔ یہ عہدکیا گیا تھا کہ ان کے مستعفی ہونے تک بھوک ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے سوال کیا کہ اس مطالبہ کا کیا ہوا اور کہا کہ حکومت کو عوام پر واضح کرنا چاہئے کہ کیوں پردھان کو بچایا جارہا ہے۔ اس بات کا انتباہ دیتے ہوئے کہ وانگ چک کی جانب سے شروع کی گئی تحریک میں کمی واقع نہیں ہوگی۔ راوت نے مشترکہ سیاسی اور عوامی سلسلہ وار کارروائیوں کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ شیوسینا (یو بی ٹی) کے لیڈر آدتیہ ٹھاکرے اور مہاراشٹرا نونرمان سینا (این این ایس) لیڈر آج ممبئی میں ایک مشترکہ ”راشٹراگن“(قومی ترانہ) احتجاج کی قیادت کررہے ہیں۔ مزید یہ کہ ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے مشترکہ طور پر ممبئی میں اتوار26جولائی کو مختلف ریاستوں کے احتجاجیوں کے ساتھ ایک میگاریالی (ویراٹ مورچہ) منظم کریں گے۔
بھوک ہڑتال ختم کرنے کے وقت اور حالات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے راوت نے الزام عائد کیا کہ حکمران قیادت خوف تلے کارروائی کررہی ہے۔ بھوک ہڑتال نصف شب کے دوران ختم کرائی گئی جب وہاں تحریک کے کوئی نمائندے موجود نہیں تھے اور نہ اپوزیشن کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جب احتجاج میں اضافہ ہورہا تھا حکومت نے وانگ چک کو ”چینی ایجنٹ“کہہ کر انہیں بدنام کیا اور جسمانی طور پر بھوک ہڑتال کے مقام سے کھینچ کر ہٹایا گیا۔ بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ پولیس لاٹھی چارج میں زخمی کارکنوں یا لاکھوں احتجاجیوں کی جانب سے کیا جانا تھا نہ کہ حکومت کی جانب سے، جو برسرموقع فوٹو ایپس بناکر اس کا سہرا اپنا سر لینا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امیت شاہ اور نریندر مودی خوفزدہ ہیں۔
عام طور پر وزیراعظم مودی رات 8بجے قوم کو مخاطب کرتے ہیں لیکن کل انہوں نے نصف شب کو سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا۔ حکومت کے ان دعوؤں کو کہ اپوزیشن مباحث کرنے سے ہچکچارہی ہے کو مسترد کرتے ہوئے راوت نے کہاہے کہ چیف منسٹر مہاراشٹرا (دیویندر فڈنویس) کہ ہم مباحث سے ڈرتے ہیں اور سوا ل کیا کہ کب یہ حکومت پلوامہ اور کسانوں کی خودکشیوں پر مباحث کی اجازت دے کی۔