قومی

ہندوؤں کے عقیدہ کے احترام میں مسلمانوں کا گائے خریدنے سے گریز: مولانا ساجد رشیدی (ویڈیو)

مولانا ساجد رشیدی نے سیاست میں نفرت پر مبنی بیان بازی کے بڑھتے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے آج فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور دونوں برادریوں کے درمیان باہمی احترام کی ضرورت پر زور دیا۔

نئی دہلی (آئی اے این ایس) مولانا ساجد رشیدی نے سیاست میں نفرت پر مبنی بیان بازی کے بڑھتے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے آج فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور دونوں برادریوں کے درمیان باہمی احترام کی ضرورت پر زور دیا۔

مغربی بنگال میں جاری مویشی بحران کے بیچ آئی اے این ایس سے بات چیت کرتے ہوئے آل انڈیا امام اسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ بنگال کے کئی مسلمان رضاکارانہ طورپر ہندو مذہبی عقائد کا احترام کرتے ہوئے گائیں خریدنے سے گریز کررہے ہیں۔ یہ دیکھا جارہا ہے کہ بنگال میں مسلمان گائیں خریدنے سے یہ کہتے ہوئے گریز کررہے ہیں کہ ہندو لوگ گائے کو اپنی ماتا سمجھتے ہیں اور ہم ان کے عقیدہ کا احترام کرتے ہیں۔

رشیدی نے کہا کہ اگر ہندو متحد رہیں تو گائے کو آخرکار قومی جانورقراردیا جاسکتا ہے۔ بہرحال انہوں نے پھوٹ ڈالنے اور تشدد پر اُکسانے کے لئے مذہب کے استحصال کے خلاف انتباہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب لوگ عقیدہ کا بے جا استعمال کرتے ہیں۔

جب مذہب کے نام پر فساد بھڑکائے جاتے ہیں‘ جب عقیدہ کے نام پر مسلمانوں پر حملے کئے جاتے ہیں اور جب ملک میں بے چینی پیدا کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیا ن نفرت پیدا ہوتی ہے۔ مغربی بنگال میں مویشی کسانوں میں اقتصادی بحران کو اجاگر کرتے ہوئے رشیدی نے دعویٰ کیا کہ مویشیوں کی فروخت میں کمی آنے سے کئی ہندو کسان اور تاجرین مالی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔

بنگال کے کئی ہندو مویشی کسانوں کو معاشی بحران کا سامنا ہے۔ لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور اپنی پریشانی ظاہر کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گائیں فروخت نہ ہونے سے ا ن کے کاروبار ٹھپ ہوگئے ہیں اور قرض کے بوجھ میں دب گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ ہندو دائیں بازو کی تنظیمیں جیسے بجرنگ دل کسانوں کو معاشی مشکلات سے بچانے کیوں آگے نہیں آرہی ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے لئے لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی کی جانب سے غدار کی اصطلاح استعمال کئے جانے پر رشیدی نے کہا کہ ان دنوں سیاست کا معیار اتنا گرچکا ہے کہ جرسی گائے‘ غدار اور ووٹ چور جیسی اصطلاحات سیاست میں عام بات ہوگئی ہیں۔ میرا یہ ماننا ہے کہ ہم سیاست کے معیار اور جذبہ دونوں میں گراوٹ کا مشاہدہ کررہے ہیں۔