چست کپڑے میں نماز
ایسا چست لباس پہننا جس سے جسم کی ساخت اور اعضاء کی بناوٹ نمایاں ہو ، مکروہ ہے ، اور فقہاء نے لکھا ہے کہ جن حصوں کا ستر واجب ہے ، اگر کوئی ان حصوں پر ایسا کپڑا پہنے ہوئے ہوتو اگرچہ کہ چمڑا نظر نہ آئے ، پھر بھی اس کی طرف دیکھنا جائز نہیں
سوال:- آج کل بہت سے نوجوان ایسا چست کپڑا پہنتے ہیں کہ جس سے جسم کی بناوٹ نمایاں ہوجاتی ہے ، خاص کر جینس کے بنے ہوئے پینٹ پوری طرح چپکے ہوئے ہوتے ہیں ، کیا ایسے پینٹ میں نماز ادا ہوجائے گی ؟ (ابوالطیب، ملك پیٹ )
جواب :- ایسا چست لباس پہننا جس سے جسم کی ساخت اور اعضاء کی بناوٹ نمایاں ہو ، مکروہ ہے ، اور فقہاء نے لکھا ہے کہ جن حصوں کا ستر واجب ہے ، اگر کوئی ان حصوں پر ایسا کپڑا پہنے ہوئے ہوتو اگرچہ کہ چمڑا نظر نہ آئے ، پھر بھی اس کی طرف دیکھنا جائز نہیں:
مفادہ أن رؤیۃ الثوب بحیث یصف حجم العضو ممنوعۃ ولو کثیفاً لا تری البشرۃ منہ ، وعلی ہذا لا یحل النظر إلی عورۃ غیرہ فوق ثوب ملتزق بہا یصف حجمھا ( در مع الدر ، فصل فی النظر والمس: ۹؍۵۳۶)-
تاہم اگر کوئی شخص ایسے لباس میں نماز پڑھ ہی لے تو نماز درست ہوجائے گی ؛ کیوںکہ نماز اصل جسم کے کھلے رہ جانے کی وجہ سے فاسد ہوجاتی ہے ، کپڑے کے اندر جسم کی بناوٹ کے نظر آنے کی وجہ سے فاسد نہیں ہوتی ؛
چنانچہ علامہ شامیؒ نے کبیری سے نقل کیا ہے: أما لو کان غلیظاً لا یری منہ لون البشرۃ إلا أنہ التصق بالعضو وتشکل بشکلہ ، فصار شکل العضو مرئیاً ، فینبغی أن لا یمنع جواز الصلاۃ لحصول الستر ( رد مع الدر : ۲؍۸۴)