مذہب

زمین پر نماز ادا کرنے سے پہلے اس کی حیثیت کو بدلنا

۱۹ سال پہلے ہم لوگوں نے مسجد بنانے کی نیت سے ۸۱ گز کی ایک زمین خرید کی تھی ، چوںکہ وہ گڑھے والی زمین تھی ؛ اس لئے اس کی بازو کی زمین پر ہم لوگوں نے اظہار خوشی کے لئے صاحب زمین سے اجازت لے کر چند دنوں تک باقاعدہ نماز ادا کی ، بعد میں احساس ہوا کہ یہ جگہ مسجد کے لئے کسی بھی اعتبار سے مناسب نہیں ہے

سوال:- ۱۹ سال پہلے ہم لوگوں نے مسجد بنانے کی نیت سے ۸۱ گز کی ایک زمین خرید کی تھی ، چوںکہ وہ گڑھے والی زمین تھی ؛ اس لئے اس کی بازو کی زمین پر ہم لوگوں نے اظہار خوشی کے لئے صاحب زمین سے اجازت لے کر چند دنوں تک باقاعدہ نماز ادا کی ، بعد میں احساس ہوا کہ یہ جگہ مسجد کے لئے کسی بھی اعتبار سے مناسب نہیں ہے ، اول تو اس وجہ سے کہ رقبہ بہت چھوٹا یعنی ( ۸۱) گز ہے ، دوسری سب سے بڑی وجہ یہ کہ قبلہ بالکل ٹیڑھا یعنی تین کونی ہے ؛

لہٰذا مشورہ میں طے ہوا کہ اس زمین کو لڑکیوں کی دینی تعلیم کے لئے رکھ لیا جائے اور مسجد بنانے کے لئے بڑی جگہ تلاش کی جائے ؛ چنانچہ اللہ کے فضل و کرم سے چند ہی دنوں بعد تھوڑے ہی فاصلہ پر تقریباً پانچ چھ سو گز زمین خرید کر اس میں ٹین شیڈ ڈال کر ہم لوگ باقاعدہ نماز پڑھنے لگے اور الحمد للہ اب ایک خوبصورت مسجد تعمیر ہوچکی ہے ۔

غور طلب بات یہ ہے کہ مسجد کی نیت سے خریدی گئی چھوٹی سی تین کونی قبلہ والی زمین ۱۹سال سے بے کار پڑی ہوئی ہے ، وہاں کسی بھی صورت میں مسجد نہیں بنائی جاسکتی ، ایک تو اس لئے کہ اس زمین کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے غیر مسلموں کے پختہ مکانات بن چکے ہیں ،

دوسرے اس لئے کہ یہ زمین تین کونی قبلہ والی ہونے کی وجہ سے کسی بھی اعتبار سے مسجد کے لئے موزوں نہیں ہے اور تیسری سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ یہاں پر مسلم آبادی اتنی نہیں ہے کہ دس فرلانگ کے فاصلے پر ہی کوئی اور مسجد بنائی جاسکے ، اگر ایسا ہوا تو فتنہ کا موجب ہوگا ؛ لہٰذا جواب طلب مسئلہ یہ ہے کہ :

(۱ ) ایسی صورت میں اس زمین کا کیا کیا جائے ، جو ۱۹ سالوں سے بے کار پڑی ہوئی ہے ؟
(۲ ) کیا اس زمین کو فروخت کرکے ان روپیوں کو موجودہ مسجد کی ضروریات میں استعمال کیا جاسکتا ہے ؟
(۳ ) کیا اس زمین کو جیسا کہ مشورہ میں طے کیا گیا تھا ، لڑکیوں کی دینی تعلیم کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ؟
برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں ۔ ( مسجد كمیٹی)

جواب :- مسجد شرعی بننے کے لئے ضروری ہے کہ جو زمین مسجد کے لئے وقف کی جائے ، اس پر واقف کی اجازت سے نماز بھی پڑھی جائے ، اگر زمین خرید کرلی گئی ؛ لیکن ابھی اس پر نماز نہیں پڑھی گئی تو وہ مسجد شرعی نہیں ہوئی:

وأما الصلاۃ فلأ نہ لا بد من التسلیم عند أبی حنیفۃ ومحمد رحمہما اﷲ تعالیٰ ، ہکذا فی البحر الرائق ( فتاویٰ ہندیہ : ۲؍۴۵۵) – اس لئے اس مسجد کو قیمت ادا کرنے والوں کی اجازت سے کسی بھی خیر کے کام میں استعمال کیا جاسکتا ہے ، موجودہ مسجد کی ضروریات میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور لڑکیوں کی دینی تعلیم کے لئے بھی ۔