تلنگانہ

تلنگانہ میں بارش سے نظام ساگر پروجیکٹ میں پانی کی آمد میں تیزی، کسانوں میں خوشی کی لہر

نظام ساگر پروجیکٹ کے حکام کے مطابق، بدھ کی صبح تک پروجیکٹ میں 6,585 کیوسک پانی کی آمد ریکارڈ کی گئی۔ منگل کی شام سے مسلسل ہونے والی بارش کے باعث سیلابی پانی کا بہاؤ بتدریج بڑھ رہا ہے، جبکہ آئندہ چند گھنٹوں میں اس میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں مسلسل جاری بارشوں کے باعث ریاست کے بڑے آبی ذخائر میں پانی کی آمد تیزی سے بڑھنے لگی ہے۔ ضلع کاماریڈی کے اہم نظام ساگر پروجیکٹ میں بالائی علاقوں سے بڑی مقدار میں سیلابی پانی پہنچ رہا ہے، جس سے کسانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

نظام ساگر پروجیکٹ کے حکام کے مطابق، بدھ کی صبح تک پروجیکٹ میں 6,585 کیوسک پانی کی آمد ریکارڈ کی گئی۔ منگل کی شام سے مسلسل ہونے والی بارش کے باعث سیلابی پانی کا بہاؤ بتدریج بڑھ رہا ہے، جبکہ آئندہ چند گھنٹوں میں اس میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

حکام نے بتایا کہ اس وقت نظام ساگر پروجیکٹ میں پانی کی سطح 1,395.40 فٹ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ذخیرہ شدہ پانی کی مقدار 7.13 ٹی ایم سی ریکارڈ کی گئی ہے۔

رواں مانسون سیزن کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ تلنگانہ میں بڑے پیمانے پر بارشوں کے باعث ڈیموں اور آبی ذخائر میں نمایاں مقدار میں پانی کی آمد ہوئی ہے۔ حالیہ بارشوں سے نہ صرف آبی ذخائر بھرنے لگے ہیں بلکہ کسانوں کو بھی بہتر فصل کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ چند روز تک بارش کا یہی سلسلہ برقرار رہا تو آبپاشی کے لیے پانی کی دستیابی بہتر ہوگی، زیرِ زمین پانی کی سطح بلند ہوگی اور زرعی پیداوار میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

ادھر محکمۂ موسمیات نے آئندہ دو سے تین روز تک تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پیش گوئی کے مطابق بارش جاری رہی تو ریاست کے دیگر ڈیموں اور آبی ذخائر میں بھی پانی کی آمد میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جس سے زرعی شعبے اور پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنے میں بھی مدد ملے گی۔