پرائیوٹ زمین پر لگایا گیا ہائیڈرا کا بورڈ 24 گھنٹوں میں ہٹانے کا حکم، تلنگانہ ہائی کورٹ کی سخت برہمی
تلنگانہ ہائی کورٹ نے نجی زمین کو سرکاری اراضی قرار دے کر ہائیڈرا کی جانب سے بورڈ نصب کرنے کے معاملے میں سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ بورڈ کو 24 گھنٹوں کے اندر ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کو نوٹس دیے بغیر اور اس کا مؤقف سنے بغیر اس طرح کی کارروائی قانون کے منافی ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے نجی زمین کو سرکاری اراضی قرار دے کر ہائیڈرا کی جانب سے بورڈ نصب کرنے کے معاملے میں سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ بورڈ کو 24 گھنٹوں کے اندر ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کو نوٹس دیے بغیر اور اس کا مؤقف سنے بغیر اس طرح کی کارروائی قانون کے منافی ہے۔
یہ معاملہ حیات نگر منڈل کے صاحب نگر کلاں میں واقع پلاٹ نمبر 10 سے متعلق ہے، جہاں ہائیڈرا نے زمین کو سرکاری قرار دیتے ہوئے بورڈ نصب کیا تھا۔ اس کارروائی کے خلاف جھانسی اور ایک دوسرے درخواست گزار نے تلنگانہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔
جسٹس بی وجے سین ریڈی نے سماعت کے دوران کہا کہ قدرتی انصاف کے اصولوں کے مطابق کسی بھی کارروائی سے پہلے زمین کے مالکان کو نوٹس دینا، ان کا مؤقف سننا اور قانون کے مطابق کارروائی کرنا لازمی ہے۔ عدالت نے کہا کہ یکطرفہ طور پر بورڈ نصب کرنا اور زمین کو سرکاری قرار دینا قابلِ قبول نہیں۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسی زمین سے متعلق ایک سابق مقدمے میں ہائی کورٹ پہلے ہی جی ایچ ایم سی کی جانب سے تعمیراتی اجازت کی منسوخی اور ہائیڈرا کی طرف سے جاری انہدامی نوٹس کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔ اس وقت بھی عدالت نے واضح ہدایت دی تھی کہ آئندہ اگر کوئی کارروائی کرنی ہو تو پہلے نوٹس جاری کیا جائے اور قانونی طریقۂ کار پر عمل کیا جائے۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی ہدایات کے باوجود ہائیڈرا نے انہیں نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ نجی زمین پر بورڈ نصب کر دیا، جس پر عدالت نے سخت ناراضی کا اظہار کیا۔
عدالت نے ہائیڈرا کو حکم دیا کہ نجی زمین پر نصب بورڈ 24 گھنٹوں کے اندر ہٹایا جائے۔ ساتھ ہی اس معاملے میں تفصیلی جواب داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی آئندہ سماعت 11 اگست مقرر کی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں تلنگانہ ہائی کورٹ ہائیڈرا کی مختلف کارروائیوں پر مسلسل سخت ریمارکس دے رہی ہے۔ عدالت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ کسی بھی انہدامی یا انتظامی کارروائی سے قبل متعلقہ افراد کو نوٹس دینا اور قانون کے مطابق کارروائی کرنا ضروری ہے۔