قومی

وزیر تعلیم کے استعفیٰ تک کوئی بحث نہیں ہوگی: راہول گاندھی

نیٹ پیپر لیک کے خلاف طلبا کے احتجاج پر مرکز اور اپوزیشن کی رسہ کشی کے بیچ قائد اپوزیشن لوک سبھا راہول گاندھی نے جمعہ کے دن دعویٰ کیا کہ ایوان میں ان کا مائیکروفون بند کردیا گیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور طلبا سے وزیراعظم مودی کے معافی مانگنے تک کسی بھی قسم کی کوئی بحث نہیں ہوگی۔

نئی دہلی (آئی اے این ایس) نیٹ پیپر لیک کے خلاف طلبا کے احتجاج پر مرکز اور اپوزیشن کی رسہ کشی کے بیچ قائد اپوزیشن لوک سبھا راہول گاندھی نے جمعہ کے دن دعویٰ کیا کہ ایوان میں ان کا مائیکروفون بند کردیا گیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور طلبا سے وزیراعظم مودی کے معافی مانگنے تک کسی بھی قسم کی کوئی بحث نہیں ہوگی۔

مرکزی وزیر پارلیمانی امور کرن رجیجو نے قبل ازیں اپوزیشن پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ پیپر لیک مسئلہ پر بحث سے بھاگ رہی ہے۔ انہوں نے تمام جماعتوں خاص طورپر اپوزیشن سے خواہش کی تھی کہ وہ اسپیکر لوک سبھا اوم برلا سے ملاقات کریں تاکہ وقت ضائع کئے بغیر پارلیمنٹ میں مسئلہ پر بحث کی تاریخ اور وقت طئے ہوجائے۔

پارلیمنٹ ہاؤز کے باہر میڈیا سے بات چیت میں راہول گاندھی نے کہا کہ تھوڑی دیر پہلے رجیجو نے بیان دیا ہے کہ وہ ہمارے ارکان ِ پارلیمنٹ سے کہنا چاہتے ہیں کہ بحث ہونے دی جائے۔ نارمل پروٹوکول کے طورپر اگر کوئی آپ کا نام لیتا ہے تو آپ کو جواب دینے کا موقع دیا جاتا ہے۔ میں نے جب بولنا چاہا تو میرا مائیکروفون سوئچ آف کردیا گیا۔ مجھے بولنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

میں واضح طورپر کہنا چاہتا ہوں کہ اپوزیشن کا موقف طلبا کے 3 مطالبات پر مبنی ہے۔ پہلا مطالبہ یہ ہے کہ بدعنوان وزیر تعلیم کو جانا ہوگا‘ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ طلبا پر حملہ کرنے والوں کو جواب دہ بناکر ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے اور تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ وزیراعظم طلبا سے معافی مانگیں۔ کانگریس قائد نے کہا کہ یہی 3 شرائط ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم دھرمیندر پردھان کی برطرفی تک کوئی بات چیت یا بحث کرنے والے نہیں۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ طارق انور نے راہول گاندھی کے دعویٰ کی تائید کی کہ ایوان میں انہیں بولنے نہیں دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا آج صدرنشین کا رویہ حیرت انگیز اور بدبختانہ تھا۔ قائد اپوزیشن کو بولنے نہیں دیا گیا جو غیرجمہوری حرکت ہے۔

مجھے پتہ نہیں حکومت کیوں نہیں چاہتی کہ اپوزیشن بولے۔ اسی دوران سماج وادی پارٹی رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے کہا کہ حکومت کے ساتھ اپوزیشن کا کوئی تعطل نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وزیر تعلیم مستعفی ہوجائے اور بحث ہو تاکہ بات آگے بڑھے لیکن حکومت یہ نہیں چاہتی۔ وہ اپنے گھمنڈ کے باعث دوسروں کی بات سننا نہیں چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کو اخلاقی بنیادوں پر مستعفی ہوجانا چاہئے۔