کرناٹک
ٹرینڈنگ

بنگلور کا ’بک مین‘ لٹ گیا! طوفانی بارش نے ’دی بک ورم‘ کا علمی سرمایہ غرق کر دیا

دو دہائیوں سے کتابوں کے شوقین افراد کا مسکن رہنے والا یہ اسٹور آج اپنی بربادی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ اسٹور کے مالک کرشنا گوڑا، جنہیں محبت سے 'بنگلور کا بک مین' کہا جاتا ہے، جب اپنی دکان پہنچے تو وہاں کا منظر دیکھ کر ان کی آنکھیں بھر آئیں۔

دہلی :بنگلور میں ہونے والی حالیہ موسلا دھار بارش نے جہاں شہر کی سڑکوں کو تالاب میں بدل دیا، وہیں علم و ادب کے ایک بڑے مرکز کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ شہر کی مشہور ‘چرچ اسٹریٹ’ پر واقع معروف بک اسٹور ‘دی بک ورم’ (نئی اور پرانی (second-hand) دونوں قسم کی کتابیں ملتی ہیں) میں بارش کا پانی داخل ہونے سے تقریباً 5000 قیمتی کتابیں ضائع ہو گئی ہیں۔

گزشتہ دو دہائیوں سے کتابوں کے شوقین افراد کا مسکن رہنے والا یہ اسٹور آج اپنی بربادی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ اسٹور کے مالک کرشنا گوڑا، جنہیں محبت سے ‘بنگلور کا بک مین’ کہا جاتا ہے، جب اپنی دکان پہنچے تو وہاں کا منظر دیکھ کر ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ گھٹنوں تک بھرے پانی میں نایاب اور نئی کتابیں تیر رہی تھیں۔

کرشنا گوڑا نے جب سوشل میڈیا پر برباد شدہ کتابوں کی تصاویر شیئر کیں، تو نہ صرف بنگلور بلکہ پورے ملک کے کتاب دوستوں میں غم و غصے اور دکھ کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ کتابیں صرف کاغذ کا ڈھیر نہیں ہوتیں بلکہ ان میں جذبات اور علم کا خزانہ چھپا ہوتا ہے جو آج ضائع ہو گیا ہے۔

اس مشکل گھڑی میں بنگلور کے شہریوں نے اپنے ‘بک مین’ کو اکیلا نہیں چھوڑا۔ سوشل میڈیا پر ایک مہم شروع ہو گئی ہے جہاں لوگ مختلف طریقوں سے مدد کی پیشکش کر رہے ہیں:

کئی صارفین نے مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ بڑی تعداد میں لوگوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اسٹور کے دوبارہ کھلنے پر وہاں سے زیادہ سے زیادہ کتابیں خریدیں گے تاکہ نقصان کا ازالہ ہو سکے۔

نوجوانوں نے دکان کی صفائی اور بچی ہوئی کتابوں کو محفوظ کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔

چرچ اسٹریٹ جیسے مہنگے علاقے میں ایک آزاد بک اسٹور چلانا ہمیشہ سے ہی کرشنا گوڑا کے لیے ایک چیلنج رہا ہے، لیکن ان کی ہمت اور قارئین کی محبت نے اسے ہمیشہ قائم رکھا۔ اگرچہ قدرت کی آفت نے بڑا نقصان کیا ہے، لیکن شہریوں کے جذبے کو دیکھ کر امید ہے کہ ‘دی بک ورم’ کی الماریاں جلد ہی دوبارہ کتابوں سے سج جائیں گی اور یہاں ایک بار پھر علم کی خوشبو مہکے گی۔