حیدرآباد

بنڈی سنجے کے بیٹے بھاگیرتھ کی خودسپردگی

بنڈی بھاگیرتھ نے تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے پیشگی ضمانت کی درخواست پر عبوری ریلیف دینے سے انکار کے چند گھنٹوں بعد ہی سرنڈر کیا۔ عدالت نے اس مرحلے پر کوئی بھی عبوری حکم جاری کرنے سے معذرت کر لی تھی۔

حیدرآباد: مرکزی وزیر بنڈی سنجے کمار کے بیٹے، بنڈی بھاگیرتھ نے جمعہ کے روز سائبر آباد پولیس کے سامنے سرنڈر کر دیا۔ یہ اقدام ان کے خلاف پاکسو (POCSO) ایکٹ کے تحت درج کیس اور ملک سے فرار ہونے سے روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے لک آؤٹ سرکلر جاری کیے جانے کے بعد سامنے آیا۔

رپورٹس کے مطابق، بنڈی بھاگیرتھ نے تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے پیشگی ضمانت کی درخواست پر عبوری ریلیف دینے سے انکار کے چند گھنٹوں بعد ہی سرنڈر کیا۔ عدالت نے اس مرحلے پر کوئی بھی عبوری حکم جاری کرنے سے معذرت کر لی تھی۔

اپنے بیٹے کو پولیس کے حوالہ کرنے کے بعد، مرکزی وزیر بنڈی سنجے کمار نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ قانون کے احترام اور تحقیقات کو بغیر کسی تاخیر کے آگے بڑھانے کے لیے کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا”میرے بیٹے سمیت ملک کا ہر شہری قانون کے سامنے برابر ہے اور سب کو اس کی پاسداری کرنی چاہیے۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ وہ شروع ہی میں بیٹے کو پولیس کے حوالے کرنا چاہتے تھے، لیکن قانونی ماہرین کی مشاورت اور ضمانت ملنے کی امید کے باعث تاخیر ہوئی۔ تاہم، مزید انتظار کرنے کے بجائے انہوں نے وکلاء کے ذریعے اپنے بیٹے کو خود پولیس کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا۔

سائبر آباد پولیس نے 8 مئی کو ایک 17 سالہ نابالغ لڑکی کی والدہ کی شکایت پر بنڈی بھاگیرتھ کے خلاف پاکسو (POCSO) ایکٹ اور بھارتیہ نیائے سنہیتا (BNS) کی متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کیا تھا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ بھاگیرتھ کے لڑکی کے ساتھ تعلقات تھے اور انہوں نے لڑکی کو جنسی طور پر ہراساں کیا۔ متاثرہ لڑکی کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد پولیس نے کیس میں مزید سخت دفعات شامل کی تھیں۔

دوسری جانب، بنڈی بھاگیرتھ نے بھی لڑکی اور اس کے خاندان کے خلاف ایک جوابی شکایت درج کروائی ہے۔ لڑکی اور اس کے خاندان نے انہیں مختلف خاندانی تقاریب اور مذہبی مقامات کے دوروں پر مدعو کر کے اعتماد میں لیا۔

بعد میں ان پر لڑکی سے شادی کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور انکار کرنے پر جھوٹے کیسس میں پھنسانے کی دھمکی دی گئی۔ بھاگیرتھ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے خوف کی وجہ سے پہلے لڑکی کے والد کو 50,000 روپے دئے، جس کے بعد ان سے مزید 5 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا گیا۔ رقم نہ دینے پر لڑکی کی والدہ کی جانب سے خودکشی کرنے کی دھمکی بھی دی گئی۔

پولیس نے اس جوابی شکایت پر بھی ایف آئی آر (FIR) درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔