قومی

وانگ چک کو صفدرجنگ ہاسپٹل میں ہی رہنا پڑے گا: دہلی ہائی کورٹ

دہلی ہائی کورٹ نے اتوار کے دن سونم وانگ چک کی بیوی کی درخواست پر عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کردیا۔ ماحولیات کارکن کی بیوی نے سونم کو صفدرجنگ ہاسپٹل میں زیر علاج رکھنے کی مخالفت کی تھی۔

نئی دہلی (آئی اے این ایس) دہلی ہائی کورٹ نے اتوار کے دن سونم وانگ چک کی بیوی کی درخواست پر عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کردیا۔ ماحولیات کارکن کی بیوی نے سونم کو صفدرجنگ ہاسپٹل میں زیر علاج رکھنے کی مخالفت کی تھی۔

عدالت نے کہا کہ جنترمنتر سے سونم وانگ چک کو ان کی بگڑتی صحت کے مدنظر دواخانہ منتقل کرنے کا حکومت کا فیصلہ من مانی نہیں کہا جاسکتا۔ جسٹس منی پشکرنا کی بنچ نے مرکز اور دہلی پولیس کو ہدایت دی کہ وہ اندرون تین یوم اسٹیٹس رپورٹ داخل کریں۔ عدالت نے معاملہ کی آئندہ سماعت 24جولائی کو مقرر کی۔

جج نے کہا کہ حکومت نے وانگ چک کو دواخانہ منتقل کرنے کا فیصلہ ان کی بگڑتی صحت کو دیکھتے ہوئے کیا لہٰذا اس کی اِس کارروائی کو من مانی نہیں کہا جاسکتا۔ ہائی کورٹ نے اِس بات کو ریکارڈ پر لیا کہ صفدر جنگ ہاسپٹل کے ڈاکٹرس نے وانگ چک کی صحت پر قریبی نظر رکھی ہے۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان کے ساتھ زبردستی کی جارہی ہے۔

جج نے کہا کہ وانگ چک خرابی صحت کے باوجود اپنی مرضی سے کسی دواخانہ میں شریک نہیں ہوئے ایسے میں حکومت کو پورا حق ہے کہ انہیں دواخانہ میں شریک کروائے۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل چیتن شرما نے حکومت کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ وانگ چک کو حراست میں نہیں رکھا گیا ہے، ان کی بیوی اور سالا کو جتنی بار چاہیں ان سے ملاقات کرنے دیا جارہا ہے۔

ارکانِ خاندان کیلئے علیحدہ کمرہ کا انتظام کیا گیا ہے۔ مرکز نے یہ بھی بتایا کہ وانگ چک کی میڈیکل رپورٹ ان کی فیملی کو دی جائیں گی۔ جج نے واضح کیا کہ وانگ چک کی صحت کے تعلق سے تمام فیصلے میڈیکل ٹیم کرے گی۔

وانگ چک کی بیوی گیتانجلی نے عدالت سے گزارش کی تھی کہ ان کے شوہر کو فوری ڈسچارج کردیا جائے اور ان کی فیملی کی پسند کے دواخانہ میں شریک کرانے دیا جائے۔