ایشیاء

عمران خان کیخلاف قتل اور دہشت گردی کا مقدمہ درج

عمران خان اور دیگر 400 افراد کے خلاف لاہور پولیس نے آج پارٹی کی ریالی کے دوران پولیس ملازمین کے ساتھ جھڑپ جس میں ایک کارکن ہلاک اور دیگر کئی زخمی ہوگئے تھے‘ قتل اور دہشت گردی کے الزامات میں مقدمہ درج کرلیا۔

لاہور: پاکستان تحریک ِ انصاف(پی ٹی آئی) کے صدر عمران خان اور دیگر 400 افراد کے خلاف لاہور پولیس نے آج پارٹی کی ریالی کے دوران پولیس ملازمین کے ساتھ جھڑپ جس میں ایک کارکن ہلاک اور دیگر کئی زخمی ہوگئے تھے‘ قتل اور دہشت گردی کے الزامات میں مقدمہ درج کرلیا۔

متعلقہ خبریں
عدت نکاح کیس: عمران خان، بشریٰ بی بی کی سزا کےخلاف اپیلوں پر فیصلہ محفوظ
اے پی وزیر کے قافلہ کی گاڑی سے ٹکر ایک شخص ہلاک
بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں رکھ کر ان کی سزا کو مزید سخت بنایا گیا: ہائیکورٹ
امریکہ کا عمران خان اور دیگر قیدیوں کی حفاظت پر اظہارِ تشویش
توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل

سابق وزیراعظم کے خلاف پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کی زیرقیادت اتحادی حکومت کے 11 ماہ کے دور میں یہ 80 واں کیس ہے۔ پولیس نے چہارشنبہ کے روز مبینہ طورپر پی ٹی آئی کارکن علی بلال کو ہلاک اور زائداز ایک درجن افراد کو زخمی کردیا تھا۔

عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر کارروائی کے دوران یہ واقعہ پیش آیا۔ وہ یہاں سے ایک ریالی نکالنے والے تھے۔ پولیس نے زائداز 100 پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار بھی کرلیا تھا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 6 پی ٹی آئی کارکن زخمی بھی ہوئے ہیں۔ سینئر پی ٹی آئی لیڈر فواد چودھری نے جمعرات کے روز کہا کہ مہلوک پی ٹی آئی کارکن کے خاندان کی شکایت پر پولیس ملازمین اور ان کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے پولیس نے 70 سالہ عمران خان اور دیگر 400 افراد کے خلاف اس کارکن کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔

ایف آئی آر میں جن قائدین کا نام درج کیا گیا ہے ان میں فواد چودھری‘ فرخ حبیب‘ حماد اظہراور محمودالرشید شامل ہیں۔ کرکٹ کھلاڑی سے سیاستداں بنے عمران خان نے پی ٹی آئی کارکنوں کو وحشیانہ اذیت رسانی کو سوشل میڈیا پر پیش کیا اور کہا کہ بدعنوان اور قاتل بدمعاشوں نے ملک پر یہ مسلط کیا ہے۔

انہوں نے ہمارے آئین‘ بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی کی ہے۔ بے قصور پی ٹی آئی کارکنوں کو جن میں خواتین بھی شامل تھیں‘ پولیس نے تشدد اور بربریت کا نشانہ بنایا۔ ایک کارکن پولیس کی تحویل میں ہلاک ہوگیا۔ سابق وزیراعظم نے ملک بھر میں پارٹی کے حامیوں سے کہا کہ وہ مہلوک کارکن کی غائبانہ نماز ِ جنازہ ادا کریں۔

a3w
a3w