قومی
ٹرینڈنگ

کلکٹریٹ احاطہ میں قائم مسجد غیر قانونی قرار، انہدام اور کروڑوں کے جرمانے کا حکم

اتر پردیش کے ضلع سہارنپور کے کلکٹریٹ احاطہ میں گزشتہ سات دہائیوں سے قائم ایک مسجد کو عدالت نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے منہدم کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے مسجد کے قابضین پر 6.41 کروڑ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

نئی دہلی ( منصف نیوز ڈیسک)اتر پردیش کے ضلع سہارنپور کے کلکٹریٹ احاطہ میں گزشتہ سات دہائیوں سے قائم ایک مسجد کو عدالت نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے منہدم کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے مسجد کے قابضین پر 6.41 کروڑ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

315 مربع میٹر رقبہ پر قائم اس مسجد کو گرانے کا حکم سٹی مجسٹریٹ کلدیپ سنگھ کی عدالت نے جمعہ کو جاری کیا۔یہ معاملہ بجرنگ دل کے سابق صوبائی کوآرڈینیٹر وکاس تیاگی کی شکایت پر شروع ہوا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ ضلع مجسٹریٹ کے دفتر کے احاطہ، جو ایک انتہائی حساس علاقہ ہے اور جہاں سرکاری خفیہ ریکارڈ محفوظ رکھا جاتا ہے، میں مسجد غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی ہے۔

شکایت میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ مسجد کے احاطہ کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ وکاس تیاگی کے مطابق مسجد کے احاطہ میں ایک ڈاک خانہ چلایا جا رہا تھا جبکہ تین سے چار کمرے کرایہ پر دے کر مسجد کمیٹی ہر ماہ کرایہ وصول کر رہی تھی۔طویل سماعت کے بعد سٹی مجسٹریٹ نے شکایت کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری دفتر کی سلامتی اور رازداری کے پیش نظر یہ تعمیر برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔ عدالت نے سرکاری اراضی پر مبینہ قبضہ کے لیے موجودہ سرکل ریٹ کی بنیاد پر 6.41 کروڑ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔

اس فیصلے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔سہارنپور سے کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسجد نجی زمین پر واقع ہے، نہ مناسب سماعت کا موقع دیا گیا اور نہ ہی جواب داخل کرنے کے لیے لازمی 15 دن کا نوٹس دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”نہ سماعت ہوئی، نہ نوٹس دیا گیا۔

ہمیں زمینی سطح پر مزاحمت اس لیے نہیں کرنی پڑی کہ گولی چلنے کا خدشہ تھا، اب ہم عدالت میں قانونی لڑائی لڑیں گے۔ضلع انتظامیہ نے کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ انسدادِ تجاوزات مہم کا حصہ ہے۔ ایک ضلعی عہدیدار نے کہا کہ متعلقہ تعمیر بغیر اجازت کی گئی تھی، نوٹس جاری کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود تعمیر جاری رہی، اس لیے غیر مجاز تعمیرات کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب مسجد کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس حکم کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرے گی۔ مقامی مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ مسجد ملک کی آزادی سے بھی پہلے سے موجود ہے، اس لیے اسے غیر قانونی قرار دینا درست نہیں۔