قومی

مشن 2027:بی جے پی ارکانِ اسمبلی کا ’پرفارمنس ٹیسٹ‘شروع

اتر پردیش میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے سلسلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے 2022میں جیتنے والے اپنے اراکین اسمبلی کا ''رپورٹ کارڈ'' تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔

لکھنؤ۔ اتر پردیش میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے سلسلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے 2022میں جیتنے والے اپنے اراکین اسمبلی کا ”رپورٹ کارڈ” تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں
عیدالفطر سےقبل بی جے پی کامودی کٹس کاوزیرگجیندر سنگھ شیخاوت کےہاتھوں پوسٹر جاری۔
مرکزی وزیرکشن ریڈی کا دورہ سعودی عرب
بی جے پی کے خلاف الیکشن کمیشن سے شکایت
’بی جے پی ساری جھگی جھونپڑیاں ڈھا دے گی‘
9 نومبر کی تاریخ گزرگئی، اتراکھنڈمیں یو سی سی لاگو نہ ہونے پر کانگریس کا طنز

پارٹی ذرائع کے مطابق یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ اپنے حلقوں میں اراکین اسمبلی کی زمینی پکڑ کتنی مضبوط ہے اور عوام کے درمیان ان کی سرگرمیوں کا کیا حال ہے۔ جن اراکین اسمبلی سے عوام ناراض ہیں، ان کی جگہ نئے اور جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے چہروں کی تلاش تیز کر دی گئی ہے۔

پارٹی کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا، ”ہائی کمان نے پورے سروے کی ذمہ داری دو بیرونی ایجنسیوں کو دی ہے، جن کی ٹیمیں گزشتہ کئی دنوں سے شہری اور دیہی علاقوں میں گھوم کر لوگوں سے براہ راست بات چیت کر رہی ہیں۔ اراکین اسمبلی کے کام، رویے اور حلقے میں موجودگی کے بارے میں عوامی رائے لی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ ممکنہ نئے امیدواروں کی مقبولیت اور ذات پات و سماجی اثر و رسوخ کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بی جے پی یہ طے کرنا چاہتی ہے کہ 2027 میں کن چہروں پر داؤ لگانے سے جیت یقینی ہوگی۔” یہ سروے پورے صوبے میں منڈل وار کرایا جا رہا ہے۔

بیشتر منڈلوں میں بی جے پی کی پوزیشن مضبوط بتائی جا رہی ہے، لیکن مرادآباد منڈل پارٹی کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ 2017 کے انتخابات میں بی جے پی کو یہاں 27 میں سے 14 سیٹیں ملی تھیں، جو 2022 میں گھٹ کر صرف 10 رہ گئی تھیں۔

اسی نقصان کی تلافی کے لیے پارٹی اس منڈل میں خصوصی احتیاط برت رہی ہے اور ہر سیٹ پر مضبوط امیدوار تلاش کر رہی ہے۔ بی جے پی ذرائع کے مطابق تنظیم اپنی سطح پر ضلع اور علاقہ وار ممکنہ امیدواروں کی فہرست تیار کر رہی ہے۔ اس میں مقامی ارکان پارلیمنٹ اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی رائے کو بھی اہمیت دی جائے گی۔

بیرونی ایجنسیوں کی رپورٹ اور تنظیم کی فہرست کا آپس میں موازنہ کیا جائے گا۔ بی جے پی کے سینئر رہنما نے بتایا کہ جو نام دونوں فہرستوں میں مشترک ہوں گے اور جن پر اتفاق رائے ہوگا، ان کا ٹکٹ تقریباً یقینی مانا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایجنسیوں کی رپورٹ جلد ہی دہلی ہائی کمان کو سونپ دی جائے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ اس سروے میں صرف اراکین اسمبلی کا ہی نہیں بلکہ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی اسکیموں اور نو سالہ کارکردگی کے بارے میں بھی عوامی رائے معلوم کی جا رہی ہے۔ پارٹی یہ جاننا چاہتی ہے کہ کس علاقے میں حکومت کی برانڈنگ مضبوط ہے اور کہاں اینٹی اِنکمبنسی ہے۔قیادت کا ماننا ہے کہ ابھی سے ملنے والی زمینی فیڈبیک کے ذریعے 2027 کی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔

واضح اشارے ہیں کہ جو اراکین اسمبلی کارکردگی میں کمزور ثابت ہوئے، ان کا اگلے انتخابات میں ٹکٹ کٹنا تقریباً طے ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اسی طرح کانگریس نے مغربی یوپی کی سیٹوں پر پرائیویٹ ایجنسیوں سے ممکنہ چہروں کی فہرست تیار کرانا شروع کر دی ہے۔ سماج وادی پارٹی بھی اندرون خانہ سروے کے ذریعے امیدوار چھانٹ رہی ہے۔

مایاوتی کی بی ایس پی کئی سیٹوں پر انچارج اور ممکنہ امیدواروں کا اعلان کر چکی ہے۔ چندرشیکھر کی آزاد سماج پارٹی دوسری پارٹیوں کے مضبوط رہنماؤں کو توڑ کر اپنی طرف لانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ مجموعی طور پر 2027 کا انتخابی دنگل شروع ہونے سے پہلے ہی تمام پارٹیوں نے اپنی اپنی چالیں چلنا شروع کر دی ہیں۔

ٹکٹ کا حساب کتاب، ذات پات کے مساوات اور سروے رپورٹ ہی طے کریں گی کہ اگلی بار لکھنؤ کی اقتدار کی کرسی کس کے ہاتھ آئے گی۔