قومی

شدید گرمی کا قہر مزید رہے گا جاری، 3 دن کا ریڈ الرٹ

محکمہ موسمیات کے مطابق پوری ریاست میں شدید گرمی اور لو کا قہر جاری رہے گا۔پووروانچل کے لیے محکمہ موسمیات نے جمعرات کو خاص طور پر ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے لوگوں کو صحت کے تئیں محتاط رہنے اور صبح 11 بجے سے شام 5 بجے تک ضروری کام سے ہی گھر یا دفتر سے باہر نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔

لکھنؤ: شدید گرمی اور لو کا سامنا کر رہے اتر پردیش کے لوگوں کو راحت ملنے کے فی الحال کوئی آثار نہیں ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پوری ریاست میں شدید گرمی اور لو کا قہر جاری رہے گا۔پووروانچل کے لیے محکمہ موسمیات نے جمعرات کو خاص طور پر ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے لوگوں کو صحت کے تئیں محتاط رہنے اور صبح 11 بجے سے شام 5 بجے تک ضروری کام سے ہی گھر یا دفتر سے باہر نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔

گرمی کے تلخ تیوروں نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ گرمی سے چرند پرندے بھی بے حال ہیں۔ دن چڑھنے کے ساتھ پرندے درختوں کی گھنی شاخوں میں دبک رہے ہیں جبکہ سڑکوں پر صبح سے شام تک چھایا سناٹا گرمی کی شدت کی گواہی دے رہا ہے۔

لو سے بچنے کے لیے لوگ گھر سے باہر نکلتے ہی گیلے گمچھے اور تولیے کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹھنڈے مشروبات جیسے لسی، چھاچھ، آم کا پنا، بیل کا شربت، گنے کا رس اور کئی طرح کے کولڈ ڈرنکس کی مانگ تیزی سے بڑھی ہے۔ ہر سو قدم پر لوگوں کو ان مشروبات کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔

چڑیا گھر اور دیگر محفوظ جنگلی حیات کے علاقوں میں جانوروں کو گرمی سے بچانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کہیں کولر تو کہیں پانی کی بوچھاڑ کر کے جنگلی جانوروں کو راحت فراہم کی جا رہی ہے۔

گرمی کے قہر کو دیکھتے ہوئے کئی اضلاع میں بلدیاتی اداروں نے سڑکوں پر پانی کی بوچھاڑ کرنے، پینے کے پانی کی ٹنکیوں کے ٹریکٹر ٹرالی بھیجنے کے انتظام کیے ہیں۔ نوئیڈا، غازی آباد، لکھنؤ سمیت کئی علاقوں میں بڑی کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو ورک فرام ہوم کی اجازت دے دی ہے۔

گرمی کی وجہ سے بجلی کی مانگ میں تقریباً ڈیڑھ گنا اضافہ ہونے سے محکمہ بجلی حیران ہے۔ ایئر کنڈیشنر کے بے تحاشہ استعمال نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ رانسفارمروں کو اوور ہیٹنگ سے بچانے کے لیے زیادہ تر علاقوں میں صبح سے شام تک غیر اعلانیہ بجلی کٹوتی کی جا رہی ہے۔محکمہ موسمیات نے پورے اتر پردیش میں رات میں بھی درجہ حرارت بڑھنے اور لو چلنے کے آثار ظاہر کیے ہیں۔

بدھ کو باندا لگاتار چوتھے دن ملک کا سب سے گرم ضلع رہا جہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 48 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ ریاست کے زیادہ تر اضلاع میں پارہ عام طور پر معمول سے چار ڈگری زیادہ درج کیا گیا۔ پریاگ راج میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 46.4، ہمیر پور میں 46.2 ڈگری، جھانسی میں 45.9 ڈگری، آگرہ میں 45.3 ڈگری اور اورئی میں 45.2 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔

اس کے علاوہ راجدھانی لکھنؤ 43.2 ڈگری درجہ حرارت میں تپی جبکہ کانپور میں دن کا درجہ حرارت 44.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ موسم کے تلخ تیوروں کو دیکھتے ہوئے ریاست کے زیادہ تر علاقوں کے اسکولوں میں 12 ویں تک کی کلاسز ملتوی کر دی گئی ہیں۔محکمہ موسمیات کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ پیشن گوئی کے مطابق اگلے پانچ دنوں تک شدید گرمی اور لو کا قہر جاری رہنے کا امکان ہے۔

ریاست کے مغربی اور مشرقی دونوں حصوں میں 24 مئی تک موسم بنیادی طور پر خشک رہے گا اور 20 سے 30 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں، جن کے جھونکے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 20 سے 24 مئی کے دوران دن کے وقت ریاست کے کئی اضلاع میں شدید لو چلنے کا خدشہ ہے، جبکہ کئی مقامات پر رات میں بھی گرمی کی صورتحال بنی رہ سکتی ہے۔ محکمہ نے خاص طور پر بندیل کھنڈ، کانپور بلاک، آگرہ بلاک اور پووروانچل کے کئی اضلاع کے لیے سنگین وارننگ جاری کی ہے۔

محکمہ موسمیات نے باندا، چترکوٹ، پریاگ راج، فتح پور، مرزاپور، وارانسی، کانپور نگر، آگرہ، متھرا، جھانسی اور للت پور سمیت کئی اضلاع میں شدید لو کی وارننگ جاری کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی غازی پور، اعظم گڑھ، بلیا، سہارنپور، میرٹھ اور بلند شہر سمیت کئی اضلاع میں لو چلنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ 22 مئی کو بھی بندیل کھنڈ اور پووروانچل کے اضلاع میں شدید گرمی برقرار رہنے کے آثار ہیں۔

باندا، پریاگ راج، پرتاپ گڑھ، وارانسی، کانپور نگر، آگرہ، فیروز آباد، اٹاوہ، جھانسی اور مہوبہ سمیت کئی اضلاع میں شدید لو چل سکتی ہے، جبکہ دیوریا، ایودھیا، امبیڈکر نگر، میرٹھ، غازی آباد اور علی گڑھ جیسے علاقوں میں لو کا اثر برقرار رہے گا۔ محکمہ موسمیات نے وارننگ دی ہے کہ شدید گرمی کی وجہ سے سبھی عمر کے لوگوں میں ہیٹ ریش، ڈی ہائیڈریشن اور ہیٹ اسٹروک جیسے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔

خاص طور پر مزدوروں، کسانوں، کان کنی کے کارکنوں اور طویل وقت تک دھوپ میں کام کرنے والے لوگوں کو زیادہ احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ مویشیوں اور کھڑی فصلوں پر بھی گرمی کے منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

آئی ایم ڈی نے لوگوں کو دوپہر کے وقت دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنے، ہلکے رنگ کے سوتی کپڑے پہننے، وافر مقدار میں پانی اور مائع اشیاء استعمال کرنے اور او آر ایس، لسی، لیموں پانی اور چھاچھ جیسے مشروبات کا استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ کسانوں کو شام کے وقت ہلکی سینچائی کرنے اور کھیتوں میں نمی برقرار رکھنے کے اقدامات کا مشورہ دیا گیا ہے۔