آل پارٹی میٹنگ سے اپوزیشن کا واک آؤٹ، حکومت نے ٹی ایم سی کے باغی ارکان کو مدعو کرنے کی مدافعت کی
پارلیمنٹ کے کل سے شروع ہونے والے مانسون اجلاس سے قبل طلب کردہ آل پارٹی میٹنگ سے اتوار کے دن ساری اپوزیشن نے علامتی واک آؤٹ کردیا۔ انہوں نے ٹی ایم سی کے باغی ارکانِ پارلیمنٹ کو مدعو کئے جانے کے خلاف بطور احتجاج یہ اقدام کیا۔
نئی دہلی (پی ٹی آئی) پارلیمنٹ کے کل سے شروع ہونے والے مانسون اجلاس سے قبل طلب کردہ آل پارٹی میٹنگ سے اتوار کے دن ساری اپوزیشن نے علامتی واک آؤٹ کردیا۔ انہوں نے ٹی ایم سی کے باغی ارکانِ پارلیمنٹ کو مدعو کئے جانے کے خلاف بطور احتجاج یہ اقدام کیا۔
اپوزیشن نے اسپیکر لوک سبھا اوم برلا کے اِس فیصلہ کے خلاف بھی احتجاج کیا کہ باغی ٹی ایم سی ارکانِ پارلیمنٹ کیلئے ایوان میں بیٹھنے کا علیحدہ انتظام ہوگا۔ اِس کے علاوہ شیوسینا یو بی ٹی کے باغی ارکان کو ڈپٹی چیف منسٹر مہاراشٹرا ایکناتھ شنڈے کی شیوسینا میں ضم کردیا جائے گا۔ کانگریس قائد پرمودتیواری نے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ اپوزیشن نے اسپیکر کے فیصلہ کے خلاف آل پارٹی میٹنگ سے واک آؤٹ کا فیصلہ کیا ہے۔
سی پی ایم قائد جان بریٹاس نے کہا کہ آل پارٹی میٹنگ میں باغی ٹی ایم سی ارکانِ پارلیمنٹ کو مدعو کرنا انصاف کا گلاگھونٹنا ہے۔ اپوزیشن ارکان تھوڑی دیر بعد میٹنگ میں واپس آگئے۔ اپوزیشن کے احتجاج کے بعد حکومت نے اتوار کے دن ٹی ایم سی کے باغی ارکانِ پارلیمنٹ کو آل پارٹی میٹنگ میں مدعو کرنے کی مدافعت کی۔
یہ باغی ایک غیرمعروف پارٹی این سی پی آئی میں شامل ہوئے ہیں۔ حکومت نے کہا کہ وہ انہیں نظرانداز نہیں کرسکتی کیونکہ انہوں نے اسپیکر لوک سبھا سے انہیں تسلیم کئے جانے اور انہیں علیحدہ نشستیں الاٹ کرنے کی درخواست کی ہے۔ وزیر پارلیمانی امور کرن رجیجو نے یہ بھی کہا کہ ملک کے عوام چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کی کارروائی آسانی سے چلے۔
ایوان میں کوئی گڑ بڑ نہ ہو۔ انہوں نے تمام جماعتوں سے خواہش کی کہ وہ بلوں کی مثبت تائید کریں۔ وہ مانسون اجلاس سے قبل طلب کردہ آل پارٹی میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔ ٹی ایم سی کے 28ارکانِ پارلیمنٹ میں 20 پارٹی قیادت کے خلاف بغاوت کرچکے ہیں۔ انہوں نے مغربی بنگال اسمبلی الیکشن میں ٹی ایم سی کی ہار کے بعد پارٹی چھوڑ کر نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا میں شمولیت اختیار کرلی۔
آج آل پارٹی میٹنگ میں ٹی ایم سی کے باغی ارکان سدیپ بندھو پادھیائے اور کاکولی گھوش دستی دار نے شرکت کی، جس پر اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج کیا اور علامتی واک آؤٹ کردیا۔ اپوزیشن بعدازاں میٹنگ میں واپس آگئی۔ کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت مانسون اجلاس میں 8 بل لائے گی۔
سابق میں اپوزیشن کے احتجاج کی وجہ سے ایوان کی کارروائی میں خلل پڑا تھا اور ملک اور اس کے عوام کو نقصان پہنچا تھا۔ احتجاج کرنے سے کسی کا بھی سیاسی فائدہ ہونے والا نہیں۔ پارلیمنٹ جمہوریت میں سبھی جماعتوں کو بولنے کا حق ہے۔ کل جماعتی اجلاس کی صدارت وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کی۔ مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا، کرن رجیجو اور مختلف اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے اس میں شرکت کی۔ کل سے شروع ہونے والا مانسون اجلاس 13 اگست تک جاری رہے گا۔