سڑکوں پر نماز پر سخت امتناع عائد کردیا جائے، مسلمان، طاقت کا مظاہرہ اور ہندو سماج کو ڈرانا چاہتے ہیں: وشوا ہندو پریشد
وشوا ہندو پریشد(وی ایچ پی) نے چہارشنبہ کے دن مطالبہ کیا کہ سڑکوں پر نماز پر سختی سے امتناع عائد کردیا جائے۔ اس نے کہا کہ یہ مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ”طاقت کا مظاہرہ“ہے جس کا مقصد ہندو سماج اور انتظامیہ کو ڈرانا ہے۔
نئی دہلی (پی ٹی آئی) وشوا ہندو پریشد(وی ایچ پی) نے چہارشنبہ کے دن مطالبہ کیا کہ سڑکوں پر نماز پر سختی سے امتناع عائد کردیا جائے۔ اس نے کہا کہ یہ مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ”طاقت کا مظاہرہ“ہے جس کا مقصد ہندو سماج اور انتظامیہ کو ڈرانا ہے۔
ایک بیان میں وشوا ہندو پریشد کے جوائنٹ جنرل سکریٹری سریندر جین نے کہا کہ سڑکوں پر نماز عبادت نہیں بلکہ خلل ہے۔ یہ نہ صرف دستور بلکہ انسانیت اور اسلام کے خلاف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کئی عدالتیں سڑکوں پر نماز پر پابندی کا حکم دے چکی ہیں۔
سپریم کورٹ نے بھی ناپسندیدگی کا اشارہ دیا ہے۔ اس کے باوجود سڑکوں پر نماز کی ادائیگی پر زور دینا غیردستوری اور تحقیرعدالت کے مترادف ہے۔آر ایس ایس سے جڑی تنظیم نے اترپردیش اور مغربی بنگال کی حکومتوں کی طرف سے اس سلسلہ میں کئے گئے اقدامات کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ سڑکیں ٹریفک کے لئے ہیں۔
سریندر جین نے الزام عائد کیا کہ دہلی میں ریل پٹریوں پر نماز کی وجہ سے کئی گھنٹے ریل گاڑیاں رکی رہتی ہیں جبکہ گروگرام میں سڑکوں پر نماز کی وجہ سے 8 گھنٹوں تک کا ٹریفک جام لگ جاتا ہے۔ یہ لوگ صرف 5 منٹ کی نماز کی باتیں کرتے ہیں لیکن یہ کسے بے وقوف بنارہے ہیں؟۔
گروگرام سے گزرنے والی جئے پور ہائی وے پر جب نماز ادا کی جاتی ہے تو گھنٹوں کا ٹریفک جام لگ جاتا ہے۔ اسکول بسیں اور ایمبولنس گاڑیاں پھنس کر رہ جاتی ہیں۔ اس کے باوجود کسی نمازی کا دل پگھلتا نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کئی مسلم ممالک میں اس پر پابندی ہے۔
ایران جیسے ممالک پابندی لگاچکے ہیں۔ کوئی بھی مہذب ملک سڑکوں پر نماز کی اجازت نہیں دیتا۔ سریندر جین نے زور دے کر کہا کہ سڑکوں پر نماز کا تقابل کانوڑ یاترا یا دوسرے ہندو تہواروں سے نہ کیا جائے جو سال میں ایک بار ہوتے ہیں اور اس کے لئے اڈمنسٹریشن سے پیشگی اجازت لی جاتی ہے۔