سائبر جرائم کے خلاف تلنگانہ پولیس کی بڑی کامیابی، 2025 میں 21,639 ایف آئی آر درج
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، سال 2025 میں تلنگانہ میں 91 ہزار 369 سائبر جرائم کی شکایات درج ہوئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 3 فیصد کم ہیں۔ اسی عرصے میں سائبر ٹھگوں کے بینک کھاتوں میں 279 کروڑ روپے منجمد کیے گئے، جبکہ گزشتہ سال یہ رقم 255 کروڑ روپے تھی۔ متاثرین کی رقم محفوظ رکھنے کی شرح بھی 9 فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد ہو گئی۔
حیدرآباد: تلنگانہ میں سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باوجود ریاستی پولیس نے سال 2025 کے دوران سائبر فراڈ کے متاثرین کو مالی نقصان سے بچانے اور جرائم کے خلاف مؤثر کارروائی میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سی وی آنند نے کہا کہ سائبر جرائم اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں، اور ان پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
ڈی جی پی نے تلنگانہ سائبر سکیورٹی بیورو (TGCSB) کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے سائبر جرائم کی روک تھام، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور متاثرین کو فوری مدد فراہم کرنے کے اقدامات کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہیں مصنوعی ذہانت (AI) سے چلنے والے سائبر کال سینٹر کا عملی مظاہرہ بھی دکھایا گیا، جو شکایت موصول ہوتے ہی متاثرہ شخص سے ضروری معلومات حاصل کرکے متعلقہ پولیس اسٹیشن کو فوری اطلاع بھیج دیتا ہے، تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، سال 2025 میں تلنگانہ میں 91 ہزار 369 سائبر جرائم کی شکایات درج ہوئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 3 فیصد کم ہیں۔ اسی عرصے میں سائبر ٹھگوں کے بینک کھاتوں میں 279 کروڑ روپے منجمد کیے گئے، جبکہ گزشتہ سال یہ رقم 255 کروڑ روپے تھی۔ متاثرین کی رقم محفوظ رکھنے کی شرح بھی 9 فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد ہو گئی۔
رپورٹ کے مطابق، پورے بھارت میں سال 2025 کے دوران سائبر جرائم کے 49 ہزار 620 مقدمات درج کیے گئے، جن میں سے 21 ہزار 639 مقدمات صرف تلنگانہ میں درج ہوئے، جو ملک بھر کے کل سائبر کرائم مقدمات کا تقریباً 44 فیصد بنتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی تلنگانہ سائبر کرائم کے مقدمات درج کرنے کے معاملے میں ملک بھر میں پہلے نمبر پر رہا۔
اعداد و شمار کے مطابق، 75 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے سائبر فراڈ کے معاملات میں 78 فیصد شکایات کو ایف آئی آر میں تبدیل کیا گیا، جبکہ ایک لاکھ روپے سے زیادہ کے فراڈ والے مقدمات میں یہ شرح 56 فیصد رہی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور تیز رفتار کارروائی کے ذریعے سائبر جرائم پر مؤثر انداز میں قابو پانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔