حیدرآباد

چیف منسٹر کی دور اندیشی سے تلنگانہ کو کئی ایوارڈس ملے: ای دیاکرراؤ

دیاکرراؤ نے نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاکہ وزیر اعظم مودی اور امیت شاہ کی آبائی ریاست گجرات کو ہماری طرح ایوارڈ نہیں ملے۔یہ سب وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کی دور اندیشی کی وجہ سے ممکن ہوا۔انہوں نے عوام سے خواہش کی کہ حکومت کی سہولیات سے استفادہ کیاجائے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر پنچایت راج و دیہی ترقی ای دیاکرراو نے دہلی میں منعقد ہونے والے ایک پروگرام میں حال ہی میں قومی ایوارڈ جیتنے والے تلنگانہ دیہاتوں، منڈلوں اور ضلع پریشدوں کے نمائندوں اور عہدیداروں کیلئے ناشتہ کی میزبانی کی۔

متعلقہ خبریں
چیف منسٹر ریونت ریڈی نے میڈارم کا دو روزہ دورہ کامیابی کے ساتھ مکمل کیا
پہلگام حملے کی مذمت پر اسد الدین اویسی کو خراجِ تحسین، مدینہ سرکل پر پورٹریٹ کو دودھ سے نہلایا گیا
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور

 ریاستی منصوبہ بندی کمیشن کے نائب صدرنشین بی ونود کمار اوردوسرے اس موقع پر موجود تھے۔دیاکرراو نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب تلنگانہ کا گنگا دیوی گاؤں ملک کے لیے ایک مثالی بن گیا ہے۔وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کے ویژن کی وجہ سے دیہاتوں کی شکل بدل گئی ہے۔

قبل ازیں دیہات بدتر حالت میں ہوا کرتے تھے۔آج دیہاتوں میں سہولیات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ تلنگانہ کو اب تک 79 ایوارڈس مل چکے ہیں۔ انہوں نے توقع کی کہ بہتر کام پر جلد ہی مزید ایوارڈس تلنگانہ کوملیں گے۔

انہوں نے نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاکہ وزیر اعظم مودی اور امیت شاہ کی آبائی ریاست گجرات کو ہماری طرح ایوارڈ نہیں ملے۔یہ سب وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کی دور اندیشی کی وجہ سے ممکن ہوا۔انہوں نے عوام سے خواہش کی کہ حکومت کی سہولیات سے استفادہ کیاجائے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ گاوں خوبصورت اور خوشگوار نظر آنے چاہئے۔انہوں نے کہاکہ تلنگانہ سے اگر مرکز تعاون کرتا تو مزید ترقی کی گنجائش ہوتی۔

ریاستی منصوبہ بندی کمیشن کے نائب صدرنشین بی ونود کما ر نے کہا کہ وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کی قیادت اور رہنمائی میں تلنگانہ کے دیہاتوں کی نئی صورت گری کی گئی ہے۔ایوارڈ آسانی سے نہیں ملتے۔ مرکز کے تعاون کے بغیر ریاست میں اتنے دیہاتوں کا ایوارڈ جیتنا کوئی عام بات نہیں ہے۔