دہلی
ٹرینڈنگ

مکہ و مدینہ کی رباطوں پر تنازع شدت اختیار کر گیا، صبا سلطان کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی دھمکی

مدھیہ پردیش کے کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود نے مکہ اور مدینہ میں قائم بھوپال ریاست کی رباطوں (حاجیوں کے لیے رہائشی مقامات) کے معاملہ پر اداکار سیف علی خان کی بہن صبا سلطان (صبا سلطان بھوپال کی وقف املاک کے انتظام کے لیے قائم اوقافِ شاہی پینل کی متولی (سربراہ) ہیں) کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی دھمکی دے دی ہے

نئی دہلی: مدھیہ پردیش کے کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود نے مکہ اور مدینہ میں قائم بھوپال ریاست کی رباطوں (حاجیوں کے لیے رہائشی مقامات) کے معاملہ پر اداکار سیف علی خان کی بہن صبا سلطان (صبا سلطان بھوپال کی وقف املاک کے انتظام کے لیے قائم اوقافِ شاہی پینل کی متولی (سربراہ) ہیں) کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی دھمکی دے دی ہے، جس کے بعد یہ تنازعہ مزید گہرا ہو گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق عارف مسعود نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں سے مکہ اور مدینہ میں موجود رباطوں میں بھوپال، رائے سین اور سیہور کے حاجیوں کو قیام میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ ماضی میں یہ سہولتیں نوابوں کی جانب سے مفت فراہم کی جاتی تھیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ چند افراد کی لاپرواہی اور غلط فیصلوں کے باعث یہ نظام تقریباً بند ہو چکا ہے، جس کا براہِ راست اثر حاجیوں پر پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملہ پر پہلے بھی اجلاس ہو چکا ہے اور رباطوں کو دوبارہ فعال کرنے پر اتفاق ہوا تھا، لیکن تاحال کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

ایم ایل اے نے مزید کہا کہ اگر وقف بورڈ نے فوری کارروائی نہ کی تو وہ صبا سلطان اور سکندر حفیظ کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے اور ان کے پاس مبینہ بے ضابطگیوں کے شواہد بھی موجود ہیں۔

دوسری جانب وقف بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر سنور پٹیل نے کہا ہے کہ پورے معاملہ کی باقاعدہ جانچ کی جائے گی۔ ان کے مطابق مدینہ کی رباط کا معاملہ اس وقت سعودی عرب کی عدالت میں زیرِ سماعت ہے، جہاں مختلف افراد نے خود کو متولی ظاہر کیا ہے، جبکہ وقف بورڈ کی جانب سے صبا سلطان کو متولی مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عدالتی تنازع کے باعث فی الحال رباطوں کا انتظام سعودی وقف حکام کے پاس ہے، جبکہ مکہ میں بھی کچھ انتظامی مسائل سامنے آئے ہیں جن کے حل کے لیے نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔

وقف بورڈ کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ فریقین دستاویزات کے ساتھ شکایات پیش کریں گے تو مکمل جانچ کے بعد مسئلہ کا مناسب حل نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔