امریکہ و کینیڈا

ٹرمپ کا غزہ میں حماس کی غیر مسلحی سے متعلق معاہدے کا دعویٰ،غزہ نئی فلسطینی انتظامیہ کے سپرد ہوگا

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت غزہ کا انتظام بالآخر ایک نئی فلسطینی حکومت کے سپرد کیا جائے گا، جو فلسطینی عوام کی خدمت کے لیے "بورڈ آف پیس" کے ساتھ قریبی تعاون کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے اسرائیل کو بھی وہی سکیورٹی حاصل ہوگی جس کا وہ حقدار ہے اور غزہ کو دوبارہ دہشت گرد حملوں کے اڈے کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو حماس اور غزہ میں موجود دیگر تمام مسلح گروہوں کی مکمل غیر مسلحی کے لیے ایک ایسے معاہدے کا اعلان کیا جسے انہوں نے "تاریخی” قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ غزہ میں جاری تنازع کے خاتمے اور وہاں نئی فلسطینی انتظامیہ کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اس پر عمل درآمد کے حوالے سے اب بھی مختلف فریقوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ "بورڈ آف پیس” نے غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروپوں کی مکمل غیر مسلحی سے متعلق ایک معاہدہ طے کر لیا ہے، جس کے بعد مرحلہ وار اسرائیلی افواج کا غزہ سے انخلا بھی عمل میں آئے گا۔ تاہم اس اعلان کے باوجود یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا حماس اور اسرائیل باضابطہ طور پر اس معاہدے کا حصہ ہیں یا نہیں، کیونکہ دونوں فریقوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔


صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ ان کے 20 نکاتی امن منصوبے پر عمل درآمد کی جانب ایک اہم پیش رفت اور دیرپا امن و سلامتی کے قیام کی سمت ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں حماس اور دیگر تمام مسلح گروپوں کی مکمل غیر مسلحی مختلف مراحل میں مکمل کی جائے گی اور جیسے جیسے یہ عمل آگے بڑھے گا، اسرائیلی فوج بھی مرحلہ وار غزہ سے واپس ہٹتی جائے گی۔


انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت غزہ کا انتظام بالآخر ایک نئی فلسطینی حکومت کے سپرد کیا جائے گا، جو فلسطینی عوام کی خدمت کے لیے "بورڈ آف پیس” کے ساتھ قریبی تعاون کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے اسرائیل کو بھی وہی سکیورٹی حاصل ہوگی جس کا وہ حقدار ہے اور غزہ کو دوبارہ دہشت گرد حملوں کے اڈے کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔


ٹرمپ نے کہا کہ غزہ میں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری ایک بین الاقوامی استحکام فورس اور نئی فلسطینی پولیس فورس مشترکہ طور پر سنبھالے گی، جو شہریوں اور پڑوسی ممالک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کام کریں گی۔


امریکی صدر نے کہا کہ صرف ایک سال قبل غزہ شدید جنگ، سنگین انسانی بحران اور یرغمالیوں کی قید جیسے حالات سے دوچار تھا، تاہم اب ایک تاریخی پیش رفت حاصل کی گئی ہے، اگرچہ ابھی بھی بہت سا کام باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 7 اکتوبر کو غزہ سے ابھرنے والے خطرے کو دوبارہ سر اٹھانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔


انہوں نے ثالثی کرنے والے ممالک مصر، قطر اور ترکیہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا، جبکہ اپنی ٹیم کی انتھک محنت کو بھی اس پیش رفت کا اہم سبب قرار دیا۔ ٹرمپ نے اس کامیابی پر تمام متعلقہ فریقوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ سمجھتے تھے کہ ایسا معاہدہ کبھی ممکن نہیں ہو سکے گا۔


دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق قاہرہ میں ثالثی کرنے والے ممالک اور حماس کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ایک اسرائیلی عہدیدار نے مجوزہ شرائط کو اسرائیل کے لیے غیر اطمینان بخش قرار دیا ہے۔