ایشیاء

پاکستان میں جبری شادیوں پر اقوام متحدہ کااظہارِ تشویش

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے پاکستان میں اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے تحفظ کے فقدان پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں اقلیتی برادری جبری شادیوں اور مذہب تبدیلی کا شکار ہیں۔

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے پاکستان میں اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے تحفظ کے فقدان پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں اقلیتی برادری جبری شادیوں اور مذہب تبدیلی کا شکار ہیں۔

متعلقہ خبریں
گیان واپی مسجد کے تہہ خانہ میں پوجا، 12 فروری کو سماعت
پاکستانی ہندوؤں کو انتخابی عمل سے باہر کردیئے جانے کا احساس
رفح پر اسرائیلی حملہ، خون کی ہولی کا باعث بن سکتا ہے: ڈبلیو ایچ او
اسٹیفنڈ میں تاخیر: اقلیتی ریسرچ اسکالرس قرض لینے پرمجبور
دھارواڑ میں ہندو کارکن مسلمان کی دکان میں گھس پڑے

ڈان نیوز کے مطابق جینوا میں انسانی حقوق کونسل میں ماہرین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ‘ہندو مذہب اور مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں خاص طور پر جبری مذہب تبدیلی، اغوا، اسمگلنگ، کم عمر اور جبری شادی اور جنسی تشدد کا شکار ہیں ’۔

جن ماہرین نے یہ بیان جاری کیا ان میں خواتین اور بچوں کی اسمگلنگ سے متعلق خصوصی نمائندہ سیوبھان ملالی‘ اقلیتی امور کے خصوصی نمائندہ نکولس لیورٹ، خواتین اورلڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر کام کرنے والے گروپ کی سربراہ ڈوروتھی ایسٹراڈا ٹینک اور دیگر شامل تھے۔

بیان میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ‘مذہبی اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والی نوجوان خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا‘۔ماہرین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو جبری شادی اور مذہب تبدیلی پر مجبور کیا جاتا ہے، بعض اوقات عدالت بھی ایسے جرائم کی اجازت دیتی ہے اور مذہبی قوانین کا حوالہ دے کر ایسی لڑکیوں کو ان کے والدین کے حوالے کرنے کے بجائے اغوا کاروں کے ساتھ رکھنے کا جواز پیش کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجرم اکثر احتساب سے بچ جاتے ہیں اور پولیس بعض اوقات جرائم کو‘محبت کی شادیاں ’کا لیبل لگا کر نظر انداز کردیتی ہے۔ماہرین نے زور دیا کہ کم عمری اور جبری شادیوں کو مذہبی یا ثقافتی بنیادوں پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت جب متاثرہ لڑکی کی عمر 18 سال سے کم ہو تو اس کی رضامندی (consent) سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔یاد رہے کہ پاکستان میں لڑکیوں کی شادی کی قانونی عمر 16 اور لڑکوں کے لیے 18 سال ہے۔

ماہرین نے کہا کہ ایک عورت کا شریک حیات کا انتخاب کرنے اور آزادانہ طور پر شادی میں داخل ہونے کا حق حاصل ہے، قانون کو اس حق کی حفاظت اور حمایت کرنی چاہیے۔انہوں نے زبردستی کی جانے والی شادیوں کو ختم کرنے کے قوانین کی اہمیت پر زور دیتے متاثرین کو انصاف، مدد، تحفظ اور مدد فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہندو سمیت تمام مذہب سے تعلق رکھنے والی خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ بغیر کسی امتیاز کے منصفانہ سلوک کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، بچوں، کم عمر اور جبری شادیوں کے ساتھ ساتھ اقلیتی برادریوں کی لڑکیوں کے اغوا اور اسمگلنگ کے خلاف موجودہ قانونی تحفظات کو نافذ کیا جائے، انہوں نے پاکستان سے بین الاقوامی انسانی حقوق کے فرائض کو پورا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

a3w
a3w