قومی

مختلف مسلم تنظیمیں‘ گائے کو قومی جانور قرار دینے کی حامی، مولانا ارشد مدنی کے مطالبہ کی کھل کر تائید۔دہلی میں عنقریب میٹنگ

عیدالاضحی سے چند دن قبل کئی مسلم تنظیمیں جمعیت علمائے ہند (ارشد مدنی گروپ) کے سربراہ مولانا ارشد مدنی کے اس مطالبہ کی تائید کررہی ہیں کہ گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے۔

لکھنؤ (پی ٹی آئی) عیدالاضحی سے چند دن قبل کئی مسلم تنظیمیں جمعیت علمائے ہند (ارشد مدنی گروپ) کے سربراہ مولانا ارشد مدنی کے اس مطالبہ کی تائید کررہی ہیں کہ گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے۔

مسلم تنظیموں کو امید ہے کہ ایسا کرنے سے ذبیحہ گاؤ کے مسئلہ کا سیاسی استحصال رک جائے گا۔ ہجوم کے حملوں اور گائے کے نام پر کی جانے والی دیگرزیادتیوں کے واقعات ختم ہوجائیں گے۔ کئی تنظیمیں اِس پر مسلم فرقہ میں اتفاقِ رائے کی وکالت کررہی ہیں جبکہ بعض اس سلسلہ میں وزیراعظم اور چیف منسٹر سے ملنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

یہ پہل خاص طور پر اس لئے اہمیت کی حامل ہے کہ ملک کی بہ لحاظ آبادی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں جہاں مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے ایسا مطالبہ ہندو تنظیمیں کرتی رہی ہیں۔ آل انڈیا مسلم جماعت کے صدر مولانا شہاب الدین رضوی بریلوی نے مولانا ارشد مدنی کے مطالبہ کی دل کھول کر تائید کی۔

انہوں نے پی ٹی آئی سے بات چیت میں کہا کہ ممتاز مسلم تنظیموں کے نمائندوں کی ایک میٹنگ عنقریب دہلی میں ہوگی جس میں مشترکہ مطالبات کے مسودہ کو قطعیت دی جائے گی۔ بعد ازاں ان مطالبات کو ملک کی اعلیٰ قیادت بشمول وزیراعظم مودی کے سامنے رکھا جائے گا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت کو یہ مطالبہ فوری مان لینا چاہئے۔ اِس سے ذبیحہ گاؤ کے تعلق سے سارے ملک میں حکومت کی پالیسیوں میں نہ صرف یکسانیت آجائے گی بلکہ ہجومی تشدد کے واقعات بھی ختم ہوجائیں گے۔ صدر آل انڈیا جمعیت القریش سراج قریشی نے کہا کہ ذبیحہ گاؤ کا مسئلہ پھر ایک بار سیاسی حلقوں میں عید سے قبل گرم ہوگیا ہے۔

مغربی بنگال کے واقعات اس کی تازہ مثال ہیں۔ انہوں نے گائے کو قومی جانور قرار دینے کے مطالبہ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ضروری ہوتو ان کی تنظیم اس سلسلہ میں وزیراعظم سے ملاقات کا وقت لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم عرصہ سے مطالبہ کرتی رہی ہے کہ گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے لیکن آج تک کسی بھی حکومت نے اس سلسلہ میں ٹھوس پہل نہیں کی۔

آل انڈیا شیعہ پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا یعثوب عباس نے کہا کہ گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ جائز ہے لیکن اس پر سنجیدگی سے عمل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ گائے کے تعلق سے حکومت کی نیت کیا ہے وہ اس کی پالیسیوں میں واضح طور پر جھلکنی چاہئے۔

بعض ریاستوں میں بلارکاوٹ گائے کھائی جارہی ہے جبکہ بعض مقامات پر گائے کے نام پر لوگوں کی جان لی جارہی ہے۔ مولانا ارشد مدنی کے مطالبہ کی تائید کرتے ہوئے انڈین یونین مسلم لیگ کے قومی نائب صدر کوثر حیات خان نے کہا کہ حکومت کو اس پر سنجیدگی سے عمل کرنا چاہئے۔

انہوں نے حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گوا، آسام اور مختلف شمال مشرقی ریاستوں میں بیف کسی رکاوٹ کے بغیر کھایا جاتا ہے۔ ان ریاستوں میں زیادہ تر بی جے پی زیراقدار ریاستیں ہیں۔ اترپردیش، اتراکھنڈ اور اب مغربی بنگال میں ذبیحہ گاؤ کو سیاسی رنگ دیا جارہا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سینئر رکن عاملہ مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ گائے سے ہمارے ہندو بھائیوں کے مذہبی جذبات وابستہ ہیں لہٰذا گائے کو قومی جانور قرار دینا چاہئے۔