دہلی

انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی کیخلاف درخواست سپریم کورٹ میں مسترد

سپریم کورٹ نے آج مرکزی زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر میں اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی ازسرنو حدبندی کمیشن کو جائز قرار دیا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آج مرکزی زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر میں اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی ازسرنو حدبندی کمیشن کو جائز قرار دیا۔

متعلقہ خبریں
مسلم خواتین کے لئے نان و نفقہ سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل ستائش: نائب صدر جمہوریہ
نیٹ یوجی کونسلنگ ملتوی
سپریم کورٹ نے مقدمے کی سماعت میں 4 سال کی تاخیر پر این آئی اے کی سرزنش کی
ماچرلہ کے ایم ایل اے رام کرشنا ریڈی پر سپریم کورٹ کی پھٹکار
سپریم کورٹ کا تلنگانہ ہائیکورٹ کے فیصلہ کو چالینج کردہ عرضی پر سماعت سے اتفاق

جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس اے ایس اوکا پر مشتمل سپریم کورٹ بنچ نے واضح کیا کہ جب آرٹیکل 370 کی منسوخی کے خلاف علیحدہ درخواستیں عدالت ِ عظمیٰ کی دستوری بنچ پر زیر التوا ہیں، حلقوں کی ازسرنو حدبندی کا فیصلہ اس پر اثرانداز نہیں ہوگا۔

مرکزی زیرانتظام علاقہ میں اسمبلی کے 107 حلقوں کو بڑھاکر ان کی تعداد 114 کرنے کو چیلنج کرنے سری نگر کے دو رہائشیوں حاجی عبدالغنی اور ڈاکٹر محمد ایوب مٹو نے ایک درخواست داخل کی تھی، جس پر عدالت ِ عظمیٰ نے یہ فیصلہ صادر کیا۔

a3w
a3w