حیدرآباد

چارمینار پر SIO کا احتجاج، NEET UG 2026 پیپر لیک کی شفاف تحقیقات اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ

ملک بھر میں NEET UG 2026 کے مبینہ پیپر لیک معاملے پر احتجاج کا سلسلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مختلف طلبہ تنظیموں کے بعد اب اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (SIO) نے بھی اس معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

حیدرآباد: ملک بھر میں NEET UG 2026 کے مبینہ پیپر لیک معاملے پر احتجاج کا سلسلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مختلف طلبہ تنظیموں کے بعد اب اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (SIO) نے بھی اس معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

جمعہ کو حیدرآباد کے تاریخی چارمینار کے قریب ایس آئی او کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر امتحانی نظام میں شفافیت، طلبہ کے ساتھ انصاف اور تعلیم کے تحفظ سے متعلق نعرے درج تھے۔

احتجاج کے دوران مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ NEET UG 2026 کے مبینہ پیپر لیک کی آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آسکے اور طلبہ کا اعتماد بحال ہو۔

ایس آئی او کے ذمہ داران کا کہنا تھا کہ پیپر لیک کے واقعے نے لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برسوں کی محنت کے بعد امتحان دینے والے طلبہ کے مستقبل کو اس طرح کی بے ضابطگیوں سے متاثر نہیں ہونے دیا جا سکتا۔

مظاہرین نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک اس معاملے کی مکمل تحقیقات نہیں ہوتیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی جاتی، تب تک امتحانی نظام پر عوام کا اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔

ایس آئی او نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیپر لیک میں ملوث تمام افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے، امتحانی نظام کو مزید شفاف بنایا جائے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مضبوط اور مؤثر انتظامات کیے جائیں۔

واضح رہے کہ NEET UG 2026 کے مبینہ پیپر لیک معاملے پر دہلی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں مسلسل احتجاج جاری ہے۔ مختلف طلبہ تنظیمیں، سماجی تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں اس معاملے پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کر رہی ہیں، جبکہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔