مقتدی غلطی سے کہہ دے : بیٹھ جاؤ !
مقتدی کے بیٹھ جاؤ کہنے کی وجہ سے اس کی نماز تو بہر حال فاسد ہوگئی اور اسے دوبارہ نماز ادا کرنی ہوگی:
سوال:- امام سے غلطی ہوئی امام ، کو بیٹھنا تھا ، مگر وہ کھڑا ہوگیا اور کسی مقتدی نے امام کو آگاہ کرنے کی نیت سے کہا کہ ’’ بیٹھ جاؤ ‘‘ تو امام بیٹھ گیا یا امام کو کھڑا ہونا تھا مگر وہ بیٹھ گیا ، مقتدی نے کہا کھڑا ہوجا تو امام کھڑا ہوگیا ،
تو کیا اس حالت میں سب کی نماز فاسد ہوجائے گی یا صرف اس مقتدی کی نماز فاسد ہوگی ؟ اور کیا امام کی نماز پر اس کا کوئی اثر پڑے گا؟ کیا امام کی نماز بھی فاسد ہوجائے گی ؟ (شرافت حسین، ملے پلی)
جواب :- مقتدی کے بیٹھ جاؤ کہنے کی وجہ سے اس کی نماز تو بہر حال فاسد ہوگئی اور اسے دوبارہ نماز ادا کرنی ہوگی: ’’تکلم لإصلاح صلا تہ بأن قام الإمام فی موضع القعود فقال لہ المقتدی اقعد أو قعد فی موضع القیام … استقبل الصلاۃ‘‘ (ہندیہ : ۱؍۹۸) –
جہاں تک امام صاحب کے اس تنبیہ پر بیٹھ جانے کی بات ہے تو اگر امام صاحب کو بالکل یاد نہیں تھا اور مقتدی کے کہنے کی وجہ سے ہی یاد آیا اوروہ فوراً بیٹھ گئے تو ان کی نماز فاسد ہوجائے گی اور نماز دُہرانی ہوگی ،
اور اگر اسی کی تنبیہ کے بعد امام صاحب کو خود یاد آگیا کہ ابھی ان کو کھڑا نہیں ہونا چاہئے تھا اور اس بنیاد پر وہ بیٹھ گئے تو نماز فاسد نہیں ہوگی ، سجدۂ سہو کر لینا کافی ہوگا:
قلت : والذی ینبغی أن یقال : إن حصل التذکر بسبب الفتح تفسد مطلقاً أی سواء شرع فی التلاوۃ قبل تمام الفتح أو بعدہ لوجود التعلیم ، وإن حصل تذکرہ من نفسہ لا بسبب الفتح لا تفسد مطلقاً ( ردالمحتار : ۲؍۳۸۲)