کرناٹک

شرپسندوں نے ہمیں دہشت زدہ کرنے کی کوشش کی: میلاد جلوس تشدد متاثرین

اتوار کی شام شیواموگہ شہر میں میلاد جلوس تشدد کے متاثرین نے کہا کہ شرپسندوں نے انہیں دہشت زدہ کرنے کی کوشش کی۔ ان میں سے کئی نے بتایا کہ پُرتشدد ہجوم جو سنگباری میں ملوث تھا نے بزرگوں، بچوں اور خواتین سب کو نشانہ بنایا۔

شیوموگہ: اتوار کی شام شیواموگہ شہر میں میلاد جلوس تشدد کے متاثرین نے کہا کہ شرپسندوں نے انہیں دہشت زدہ کرنے کی کوشش کی۔ ان میں سے کئی نے بتایا کہ پُرتشدد ہجوم جو سنگباری میں ملوث تھا نے بزرگوں، بچوں اور خواتین سب کو نشانہ بنایا۔

متعلقہ خبریں
کرناٹک قانون ساز کونسل میں متنازعہ مندر ٹیکس بل کو شکست
ہماری حکومت سنگباری برداشت نہیں کرے گی: سدارامیا
بین مذہبی جوڑے کو مارپیٹ،7 افراد گرفتار
6سال سے کوما میں موجود لڑکے کی موت، والدین کا ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
ملک میں کووڈ کے 646 نئے کیسس، ایک موت

حملے کی زد میں تمام پڑوسیوں کو اپنے خاندانوں کی حفاظت کے لیے متحد ہو کر گھروں سے نکل کر لاٹھیاں اور پتھر لے کر کھڑا ہونا پڑا۔ ہمیں لڑتا دیکھ کر شرپسندوں نے دور سے سنگباری شروع کردی۔

شیواموگہ شہر میں میلاد جلوس کے دوران شرپسندوں کا ایک گروپ ہندوؤں کے رہائشی علاقہ میں داخل ہوگیا۔ جب جلوس شانتی نگر کے راگی گڈا علاقہ پہنچا تو صورت حال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب گروپ نے ہندوؤں کے مکانات اور پولیس کو سنگباری کانشانہ بنایا۔

جلوس کے راستے سڑک کے دونوں جانب موجود ہندوؤں کے مکانات اورر گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ ایک خاتون نے کہا کہ اس کے شوہر پر پتھر سے حملہ کیا گیا اور اس کے بیٹے پر بھی بڑا پتھر ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ کسی طرح وہ گھر کے اندر داخل ہو کر دروازہ بند کرنے میں کامیاب ہوئے۔ پھر شرپسندوں نے گھر پر پتھروں کی بارش کردی۔

انہوں نے کہا کہ ان میں سے کچھ واضح طور پر ہمیں زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے نشانہ بنارہے ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ احتیاطی اقدامات اور اضافی فورس کی تعیناتی کی وجہ سے تشدد پر قابو پایا گیا حالانکہ پولیس بھی ہجوم کے حملے کا شکار ہوئی۔

پولیس نے تشدد کے سلسلے میں 20سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا اور دیگر کی تلاش جاری ہے۔ کرناٹک پولیس نے کشیدگی بڑھنے کے بعد پیر کو پورے شیوموگہ شہر میں کرفیو میں توسیع کردی۔ حساس مقامات پر سیکورٹی سخت کردی گئی۔