دہلی

اسد الدین اویسی کا حج کمیٹی کے فیصلہ پر سخت احتجاج

اویسی نے سوال کیا، "کیا حج کمیٹی کے ذریعے سفر کرنا ایک سزا بن گیا ہے؟" انہوں نے کہا کہ زیادہ تر عازمین امیر نہیں ہوتے بلکہ زندگی بھر کی جمع پونجی جمع کر کے حج پر جاتے ہیں۔

نئی دہلی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے عازمینِ حج سے اضافی 10,000 روپے طلب کرنے کے فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اسے غریب عازمین کا معاشی استحصال قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سرکلر کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔

اویسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ممبئی سے روانہ ہونے والے عازمین سے پہلے ہی 90,844 روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ رقم عام مسافروں کے لیے موجودہ فضائی کرایوں سے تقریباً دوگنی ہے۔

اویسی نے سوال کیا، "کیا حج کمیٹی کے ذریعے سفر کرنا ایک سزا بن گیا ہے؟” انہوں نے کہا کہ زیادہ تر عازمین امیر نہیں ہوتے بلکہ زندگی بھر کی جمع پونجی جمع کر کے حج پر جاتے ہیں۔

وزارتِ اقلیتی امور کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے مطابق، مشرق وسطیٰ (Middle East) میں جاری کشیدگی اور بحرانی صورتحال کی وجہ سے فضائی کرایوں میں اضافہ ہوا ہے۔

حج 2026 کے تمام عازمین کو 10,000 روپے ‘ایئر فیئر ڈیفرنس’ (کرایوں میں فرق) کے نام پر جمع کرانے ہوں گے۔ یہ رقم 15 مئی تک جمع کرانا لازمی قرار دی گئی ہے۔

یہ رقم تمام شہروں (جیسے ممبئی، دہلی وغیرہ) سے روانہ ہونے والے عازمین پر یکساں طور پر نافذ ہوگی۔

اسد الدین اوویسی نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس نوٹس کو فوری منسوخ کیا جائے اور عازمین سے اب تک لی گئی اضافی رقم واپس کی جائے تاکہ ان پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔