قومی

بھوج شالہ میں بھجن کیرتن اور مہا آرتی، مسلمانوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر گھروں میں نماز ادا کی

ٹھیک ایک ہفتہ قبل مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے بھوج شالہ۔ کمال مولا مسجد کامپلکس کو سرسوتی مندر قراردیا تھا۔ مسلمانوں نے آج اپنے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر نماز جمعہ ادا کی۔

دھار(مدھیہ پردیش)(پی ٹی آئی) مدھیہ پردیش کے دھار میں بھوج شالہ کامپلکس میں جمعہ کے دن ہندو بھکتوں کی بڑی تعداد مہاآرتی کے لئے جمع ہوئی۔

ٹھیک ایک ہفتہ قبل مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے بھوج شالہ۔ کمال مولا مسجد کامپلکس کو سرسوتی مندر قراردیا تھا۔ مسلمانوں نے آج اپنے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر نماز جمعہ ادا کی۔

ہائی کورٹ کے فیصلہ سے قبل ہندوؤں کو صرف ہر منگل کو عہدوسطیٰ کی عمارت میں پوجا کی اجازت تھی جبکہ مسلمان کئی سال سے یہاں نماز ِ جمعہ ادا کررہے تھے۔ دونوں فرقوں نے اس مقام پر اپنا حق جتایا تھا۔

آج کا جمعہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد پہلا جمعہ تھا۔ بھوج اتسو سمیتی اور بھوج شالہ مکتی یگیہ سمیتی نے کڑے پہرہ میں بھجن کیرتن اور مہاآرتی کا اہتمام کیا۔ بھوج شالہ مکتی یگیہ سمیتی کے کنوینر گوپال شرما نے کہا کہ دھار اور قریبی علاقوں سے بھکتوں نے حصہ لیا۔

بھوج شالہ کے مورتی والے حصہ اور کامپلکس کے دیگر حصوں کو رنگولی اور پھولوں سے سجایا گیا تھا۔ درشن اور پوجا کے لئے بھکتوں کی لائن لگی تھی۔ اسی دوران مسلمانوں نے اپنے مکانوں کے صحن اور خانگی جگہوں پر نماز ِ جمعہ ادا کی۔انہوں نے بطور احتجاج اپنے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھیں۔

مقامی مسلم رہنما عبدالصمد نے کہا کہ مسلم فرقہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کا احترام کرتا ہے لیکن وہ اس سے مطمئن نہیں ہے۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کرتی درخواست سپریم کورٹ میں داخل کی جاچکی ہے اور ہمیں وہاں سے انصاف ملنے کی امید ہے۔

عبدالصمد نے کامپلکس کے کمال مولا مسجد والے حصہ میں نماز جمعہ کی اجازت منسوخ کردینے کے انتظامیہ کے فیصلہ پر اعتراض جتایا۔ حساس صورتِ حال کے مدنظر ضلع بھر میں 2 ہزار سیکوریٹی ملازمین تعینات کئے گئے۔ ڈرونس اور سی سی ٹی وی کے ذریعہ نظر رکھی گئی۔