مہاراشٹرا

بمبمئی ہائیکورٹ نے ایس ڈی پی آئی کے 2 عہدیداروں کی شہر بدری منسوخ کردی

جسٹس مادھو جے جمدار نے بابری مسجد انہدام سے متعلق احتجاج کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر درخواست گزاروں کا یہ مؤقف ہے کہ بابری مسجد کو منہدم نہیں کیا جانا چاہیے تھا تو اسے ملک دشمنی قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آئینی آزادی حاصل ہے۔

ممبئی: بمبمئی ہائی کورٹ نے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے دو عہدیداروں کے خلاف ممبئی پولیس کی جانب سے جاری ایک سالہ شہر بدری کے احکامات کو "مکمل طور پر غیر قانونی” اور "انتہائی سخت اقدام” قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا۔

سماعت کے دوران عدالت نے پولیس سے استفسار کیا کہ کیا یہ کارروائی صرف اس بنیاد پر کی گئی کہ درخواست گزار ایک مخصوص مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ انہی احتجاجوں میں دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی شریک تھے۔

جسٹس مادھو جے جمدار نے بابری مسجد انہدام سے متعلق احتجاج کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر درخواست گزاروں کا یہ مؤقف ہے کہ بابری مسجد کو منہدم نہیں کیا جانا چاہیے تھا تو اسے ملک دشمنی قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آئینی آزادی حاصل ہے۔

عدالت نے یاد دلایا کہ اس سے قبل بھی ایس ڈی پی آئی کے دو دیگر کارکنوں کو اسی نوعیت کے مقدمے میں راحت دی جا چکی ہے۔ اس وقت بھی عدالت نے مشاہدہ کیا تھا کہ صرف احتجاج سے متعلق درج ایف آئی آر کسی شخص کی شہر بدری کی بنیاد نہیں بن سکتی۔

عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ کیا سرکاری فیصلوں کی مخالفت کرنے والے شہریوں کو حکومت کا غلام بنایا جا رہا ہے۔

درخواست گزار فیروز عبدالوہاب خان اور محمد رفیق غلام رسول انصاری نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ 3 دسمبر 2025 کو جاری کیے گئے ایک سالہ شہر بدری کے احکامات تین ایف آئی آر پر مبنی تھے، جن کا تعلق وقف بل، چیمبور۔گوونڈی میں سیمنٹ گوداموں کے معاملے اور بابری مسجد سے متعلق احتجاج سے تھا۔

درخواست گزاروں کے وکیل ابراہیم حربٹ نے عدالت کو بتایا کہ ان میں سے کوئی بھی مقدمہ مہاراشٹر پولیس ایکٹ کی دفعہ 56 کے دائرے میں نہیں آتا، جس کے تحت صرف ایسے افراد کے خلاف شہر بدری کی جا سکتی ہے جن سے جان و مال کو حقیقی خطرہ لاحق ہونے کا اندیشہ ہو۔

ریاست کی جانب سے پیش ہوئے چیف پبلک پراسیکیوٹر ششیر ہیرائے نے پولیس کی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ درخواست گزاروں کے کالعدم پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) سے روابط تھے، تاہم درخواست گزاروں نے اس الزام کی تردید کی۔ اس پر جسٹس جمدار نے نشاندہی کی کہ شوکاز نوٹس میں اس الزام کا کوئی ذکر موجود نہیں، اس لیے عدالت ایسے دعوے پر غور نہیں کر سکتی۔

عدالت نے پولیس سے کہا کہ ایف آئی آر میں نعروں کے علاوہ کسی شخص یا سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا کوئی الزام موجود نہیں ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ انہی احتجاجوں میں شیو سینا (اودھو بالا صاحب ٹھاکرے)، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، کانگریس اور مقامی شہری بھی شریک تھے، پھر صرف انہی دو افراد کے خلاف شہر بدری کی کارروائی کیوں کی گئی۔

جسٹس مادھو جے جمدار نے ریمارکس دیے کہ بغیر اجازت احتجاج کرنے پر صرف مخصوص افراد کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا کانگریس یا شیو سینا (یو بی ٹی) کے کارکنوں کے خلاف بھی ایسی کارروائی کی گئی، یا صرف اس بنیاد پر کارروائی ہوئی کہ درخواست گزار ایک مخصوص مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ روز نیٹ پرچہ لیک کے خلاف طلبہ کے احتجاج میں بھی مظاہرین نے واضح کیا تھا کہ وہ ہندو۔مسلم تنازع نہیں چاہتے اور ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے۔

ریاستی وکیل نے جواب میں کہا کہ حکومت مذہب کی بنیاد پر کارروائی نہیں کر رہی، تاہم اگر درخواست گزار مذہب کی بنیاد پر ہنگامہ آرائی کریں تو ان کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پی ایف آئی پر پابندی کے بعد نئی جماعت وجود میں آئی ہے، صرف لباس بدلا ہے، روح وہی ہے۔

جب عدالت نے سوال کیا کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے خلاف شہر بدری کیوں نہیں کی گئی تو سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ کانگریس اور دیگر جماعتیں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ درخواست گزاروں کے نعرے معاشرے میں نفرت پھیلا رہے تھے، جس سے امن و امان متاثر ہونے اور املاک کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔

اس پر جسٹس جمدار نے کہا کہ بنیادی حقوق کے معاملات میں مفروضوں یا قیاس آرائیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست بنیادی حقوق کو اس انداز میں محدود نہیں کر سکتی اور انتظامیہ کا اطمینان صرف ریکارڈ پر موجود مواد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ شوکاز نوٹس میں شامل نہ ہونے والی بات کو بعد میں بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

عدالت نے بابری مسجد سے متعلق ایف آئی آر کا دوبارہ حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر درخواست گزاروں کا ماننا ہے کہ بابری مسجد کو منہدم نہیں کیا جانا چاہیے تھا تو یہ ان کا نظریہ ہے، اسے ملک دشمنی نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے۔

جب ریاست کی جانب سے عدالت سے درخواست کی گئی کہ درخواست گزاروں کو آئندہ صرف پیشگی اجازت کے بعد احتجاج کرنے کی ہدایت دی جائے تو جسٹس جمدار نے کہا کہ انتظامیہ پہلے اجازت کیوں نہیں دیتی، اسی وجہ سے ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شہر بدری ایک غیر معمولی قانونی اقدام ہے، جو شہری کے آزادانہ نقل و حرکت کے بنیادی حق کو محدود کرتا ہے، اس لیے اس کے لیے قانون میں مقرر تمام شرائط پر سختی سے عمل ضروری ہے۔

ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ زیرِ تفتیش جرائم کی بنیاد پر شہر بدری کا حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق تمام ایف آئی آر حکومتی فیصلوں کے خلاف احتجاج سے متعلق ہیں، جبکہ ایک احتجاج میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، شیو سینا (یو بی ٹی) اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی شریک تھیں۔

ان تمام وجوہات کی بنیاد پر بامبے ہائی کورٹ نے ممبئی پولیس کی کارروائی کو "مکمل طور پر غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے دونوں عہدیداروں کے خلاف جاری شہر بدری کے احکامات منسوخ کر دیے۔