آن لائن فارمیسی سیل کے خلاف ہڑتال کامیاب، ملک کی مختلف ریاستوں میں میڈیکل شاپس بند رہیں
آل انڈیا آرگنائزیشن آف کیمسٹس اینڈ ڈرگسٹس (اے آئی او سی ڈی) کے بیانرتلے ملک بھر میں چہارشنبہ کو میڈیکل شاپس نے ایک روزہ ہڑتال کی۔ یہ احتجاج آن لائن فارمیسی سیل‘ ای فارمیسی سیکٹر میں مبینہ بے قاعدگیوں اور نقلی دواؤں کے خلاف ہوا۔
نئی دہلی (آئی اے این ایس) آل انڈیا آرگنائزیشن آف کیمسٹس اینڈ ڈرگسٹس (اے آئی او سی ڈی) کے بیانرتلے ملک بھر میں چہارشنبہ کو میڈیکل شاپس نے ایک روزہ ہڑتال کی۔ یہ احتجاج آن لائن فارمیسی سیل‘ ای فارمیسی سیکٹر میں مبینہ بے قاعدگیوں اور نقلی دواؤں کے خلاف ہوا۔
ہڑتال کے نتیجہ میں کئی ریاستوں میں میڈیکل اسٹور بند رہے۔ دواؤں کی دستیابی اور علاج معالجہ کی خدمات کئی جگہ متاثر ہوئیں۔ بہار کیمسٹس اینڈ ڈرگسٹس اسوسی ایشن (بی سی ڈی اے) کے صدر اور اے آئی او سی ڈی کے قومی نائب صدر پرسن کمار سنگھ نے کہا کہ احتجاج کو زبردست تائید حاصل ہوئی۔
آج ملک بھر کی میڈیکل شاپس نے ملک گیر شٹ ڈاؤن میں حصہ لیا۔ بہار میں بلاک‘ سب ڈیویژن (تعلقہ) اور ضلع سطح پر احتجاج ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مکمل شٹ ڈاؤن تھا تاہم وزارت ِ صحت اور معتمد صحت کی اپیل‘ عوام اور صارفین کی سہولت کے مدنظر ہم نے نرسنگ ہومس اور جن اوشدھی کیندر کو بند سے مستثنیٰ رکھا۔
بی جے ڈی رکن پارلیمنٹ سسمیت پاترا نے بھی احتجاج کی تائیدکی۔ انہوں نے کہا کہ ای کامرس اور ای فارمیسی کے بڑھتے غلبہ کے خلاف میڈیکل شاپس کی ہڑتال بجا ہے۔ دہلی میں ایک شہری نے کہا کہ اگر آن لائن پر دام کم ہو اور گھر پر منگوانے کی سہولت ہو تو یہ ہمارے لئے فائدہ مند ہے۔ قومی دارالحکومت کے ایک میڈیکل اسٹور میں کام کرنے والے ورکر نے کہا کہ ہماری اسوسی ایشن کو کچھ باتوں پر تشویش ہے جو قابل فہم ہیں۔
ہڑتال کا کئی ریاستوں میں قابل لحاظ اثر پڑا۔ پنجاب میں امرتسر کے بڑے دوابازار کے بشمول ریاست بھر میں میڈیکل اسٹور بند رہے۔ کیمسٹس کا احتجاج نہ صرف آن لائن فارمیسیوں بلکہ حکومت کی نئی پالیسیوں کے خلاف بھی ہے۔ چندی گڑھ میں ہڑتال کا ملاجلا اثر رہا حالانکہ کئی میڈیکل شاپس بند تھیں۔
ہماچل پردیش میں میڈیکل شاپس بند ہونے سے لوگوں کو تکلیف ہوئی۔ ایک مقامی شخص نے کہا کہ میں صبح دوائیں خریدنے آیا تھا لیکن دکانیں بند ہیں۔ مجھے پتہ چلا کہ آن لائن میڈیسن سیل کے خلاف ہڑتال ہورہی ہے۔ آج زیادہ تر دکانیں بند ہیں۔ میرے لئے دوائیں خریدنا مشکل ہوگیا۔ ممبئی میں ہڑتال سے طبی خدمات درہم برہم ہوگئیں۔ کئی مقامات پر دوائیں دستیاب نہ ہوسکیں۔
اسی دوران دہلی میں ایک میڈیکل اسٹور ورکر نے اپنی دکان کھلی رکھی۔ اس نے کہا کہ ہماری دکان ایک دواخانہ کے باہر ہے۔ ہمیں اسے 24 گھنٹے کھلا رکھنا پڑتا ہے۔ مریض دوردراز مقامات سے دوائیں خریدنے آتے ہیں۔ اگر ہم نے دکان بند رکھی تو انہیں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔