جرائم و حادثات

جس بات کا خدشہ تھا وہی ہوا: ڈی کے زیڈ منی انوسٹمنٹ کمپنی کے 7 ملزمین کو ضمانت منظور

مادھاپور پور کی ڈی کے زیڈ منی انوسٹمنٹ کمپنی کے 7 ملزمین بشمول موجودہ اور سابق مالکان کو ضمانتیں منظور ہوئی ہیں۔ انوسٹرس کو کچھ نہیں ملا۔ ذرائع کے بموجب مادھاپور ہائی ٹیک سٹی علاقہ میں ڈی کے زیڈ منی لینڈرنگ کمپنی تھی۔

حیدرآباد (منصف نیوز بیورو) وہی ہوا جس کا خدشہ تھا‘ یعنی سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے والے بالا آخر ضمانت پر رہا ہوگئے‘ بیچارے معصوم افراد جو بھاری منافع کی لالچ میں آکربھاری سرمایہ مشغول کیا تھا‘ کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔

متعلقہ خبریں
حیدرآباد میں پیش آیا افسوسناک واقعہ، فیس کی رقم نہ ہونے پر 19 سالہ لڑکی نے کی خودکشی
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات
جماعتِ اسلامی ہند گریٹر حیدرآباد ویمنز ونگ کے زیرِ اہتمام صحافیوں اور این جی اوز کا اجلاس

مادھاپور پور کی ڈی کے زیڈ منی انوسٹمنٹ کمپنی کے 7 ملزمین بشمول موجودہ اور سابق مالکان کو ضمانتیں منظور ہوئی ہیں۔ انوسٹرس کو کچھ نہیں ملا۔ ذرائع کے بموجب مادھاپور ہائی ٹیک سٹی علاقہ میں ڈی کے زیڈ منی لینڈرنگ کمپنی تھی۔

کمپنی کے مالکان نے مبینہ طور پر ایک ہزار روپے جمع کرانے پر 8 تا 12 فیصد منافع کا لالچ دے کر ہزاروں انوسٹرس سے لاکھوں روپے وصول کئے اور اس رقم کو غبن کرلیا گیا۔ انوسٹرس اپنی محنت کی کمائی سے محروم ہوگئے۔ اس بھروسہ پر کہ شائد چار پیسے آئیں گے اور حالت اچھے ہوجائیں گے کمپنی میں بھاری سرمایہ کاری کی تھی مگر یہ ان کی سب سے بڑی غلطی تھی دھوکہ دہی کے کیس سے مادھاپور پولیس کو نمٹنا تھا لیکن اس کیس کو سفارش کی بنا پر حیدرآباد کی سی سی ایس میں درج کروایا گیا۔

پولیس نے پیپرس سیاہ کئے اور ملزمین کو جیل بھیج دیا اور اس طرح سی سی ایس پولیس نے اپنی ذمہ داری پوری کردی۔ نقصان صرف انوسٹرس کا ہوا۔ پولیس نے پہلی بار انوسٹرس کے دباؤ میں آکر کمپنی کے ملازمین کے خلاف کیس درج کیا جو کہ پولیس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔

سابق میں کسی بھی کمپنی کے ملازمین پر کیس درج نہیں کیا گیا۔ صرف منی انوسٹمنٹ کمپنیوں کے مالکین کے خلاف ہی کیس درج کیا جاتا ہے۔ اس بار پولیس نے انوسٹرس کے دباؤ میں آکر ملازمین کے خلاف بھی کارروائی کردی جس کی وجہ سے 6 ملازمین کو جیل جانا پڑا۔ مگر انوسٹرس کو کیا ملا؟ اس کیس میں موجودہ ڈائرکٹر اقبال‘ سابق ڈائرکٹر اشفاق راحیل اور دیگر 5 افراد کو عدالت نے 60 دن بعد ضمانت منظور کی۔

ایک طرف تو انوسٹرس نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے میٹنگس منعقد کرتے رہے۔ ملازمین کا گھیراؤ کرتے رہے مگر حاصل کچھ نہیں ہوا؟ آئندہ کچھ دنوں میں سارے ملازمین ضمانتیں حاصل کرلیں تاہم انوسٹرس کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔