امریکہ و کینیڈا

ٹرمپ کا دعویٰ: ایران کے منجمد اثاثوں سے تجارتی جہازوں کے نقصانات پورے کیے جائیں گے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران تجارتی جہازوں یا ان کے سامان کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا ازالہ امریکہ کے قبضے میں موجود ایران کے منجمد اثاثوں سے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ واشنگٹن فوری جنگ بندی کے بجائے ایران پر فوجی دباؤ برقرار رکھے گا۔

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران تجارتی جہازوں یا ان کے سامان کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا ازالہ امریکہ کے قبضے میں موجود ایران کے منجمد اثاثوں سے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ واشنگٹن فوری جنگ بندی کے بجائے ایران پر فوجی دباؤ برقرار رکھے گا۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا، "جہازوں یا ان کے سامان کو پہنچنے والے ہر نقصان کی تلافی امریکہ کے زیرِ کنٹرول موجود ایرانی رقوم سے کی جائے گی۔”

انہوں نے مزید کہا، "یہ نقصانات بہت زیادہ بھی ہو سکتے ہیں، لیکن یہی منصفانہ اور مناسب طریقہ ہے۔”

ٹرمپ کا یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے بحیرۂ احمر میں سعودی جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

بحیرۂ احمر میں ان حملوں نے آبنائے ہرمز میں پہلے سے جاری کشیدگی اور بحری نقل و حمل میں رکاوٹوں کو مزید بڑھا دیا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ طویل عرصے سے تنازع کا سبب رہا ہے۔ جون میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی مفاہمت نامے (ایم او یو) میں ان اثاثوں کی رہائی ایک اہم نکتہ تھا، تاہم حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد یہ معاہدہ عملاً غیر مؤثر ہو چکا ہے۔

صدر ٹرمپ نے فوری جنگ بندی کے امکان کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر مسلسل فوجی دباؤ برقرار رکھنا ضروری ہے۔