امریکہ نے کیوبا کی نو کمپنیوں اور دو اعلیٰ عہدیداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکہ نے جمعرات کو کیوبا کی نو کمپنیوں اور دو اعلیٰ سرکاری عہدیداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں۔ واشنگٹن کا الزام ہے کہ یہ ادارے اور حکام توانائی، مالیاتی نظام اور بیرونِ ملک طبی خدمات کے شعبوں کے ذریعے کیوبا کی کمیونسٹ حکومت کو سہارا دینے اور پہلے سے عائد امریکی پابندیوں سے بچنے میں مدد کر رہے تھے۔
واشنگٹن: امریکہ نے جمعرات کو کیوبا کی نو کمپنیوں اور دو اعلیٰ سرکاری عہدیداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں۔ واشنگٹن کا الزام ہے کہ یہ ادارے اور حکام توانائی، مالیاتی نظام اور بیرونِ ملک طبی خدمات کے شعبوں کے ذریعے کیوبا کی کمیونسٹ حکومت کو سہارا دینے اور پہلے سے عائد امریکی پابندیوں سے بچنے میں مدد کر رہے تھے۔
امریکی محکمۂ خارجہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر 14404 کے تحت ان پابندیوں کا اعلان کیا۔ ان میں کیوبا کی فوج کے زیرِ انتظام کاروباری اداروں سے وابستہ کمپنیاں، توانائی درآمد کرنے والے ادارے اور بیرونِ ملک بھیجے جانے والے کیوبن طبی مشنز کی نگرانی کرنے والے حکام شامل ہیں۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ان طبی مشنز میں جبری مشقت کا سہارا لیا جاتا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد اور ادارے کیوبا میں توانائی، مالیاتی نظام اور بیرونِ ملک طبی خدمات کے شعبوں کے ذریعے حکومت کے کنٹرول کو مضبوط کرتے رہے ہیں اور سابقہ امریکی پابندیوں سے بچنے کی کوشش بھی کرتے رہے۔
پابندیوں کی فہرست میں کیوبا کے توانائی کے شعبے سے وابستہ تین ادارے اینریسا سنپیٹ اور ایناربو ایس اے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فوج کے زیرِ انتظام کاروباری گروپ گائیسا سے وابستہ چار اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں پورٹ آف ماریئل کا آپریٹر بھی شامل ہے۔
واشنگٹن کا الزام ہے کہ کیوبا کی حکومت بیرونِ ملک خدمات انجام دینے والے طبی عملے کی اجرت کا 50 سے 95 فیصد حصہ اپنے پاس رکھتی ہے، جس سے ان کا استحصال ہوتا ہے۔
ان پابندیوں کے تحت امریکہ میں موجود نامزد افراد اور اداروں کے تمام اثاثے اور مالی مفادات منجمد کر دیے جائیں گے، جبکہ امریکی شہریوں اور کمپنیوں کو ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا مالی یا تجارتی لین دین کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ وہ غیر ملکی کمپنیاں اور مالیاتی ادارے بھی ثانوی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں جو ان نامزد اداروں یا افراد کے ساتھ کاروبار کریں گے۔
یہ اقدامات ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تر پالیسی کا حصہ ہیں جس کا مقصد کیوبا پر معاشی دباؤ بڑھانا اور ان مالی ذرائع کو محدود کرنا ہے جن کے بارے میں امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی جبر کو تقویت دیتے ہیں اور امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔